سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب : ما يقال بعد الوضوء
باب: وضو کے بعد کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 469
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ أَبُو سُلَيْمَانَ النَّخَعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، پھر تین مرتبہ «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے، اور اس کے رسول ہیں“ کہا، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 842، ومصباح الزجاجة: 192)، مسند احمد (3/265) (ضعیف)» (اس سند میں زید العمی ضعیف ہیں، مگر دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے «ثلاث مرات» کے بغیر ثابت ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 841)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه زيد العمي وھو ضعيف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه زيد العمي وھو ضعيف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
469
| من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فتح له ثمانية أبواب الجنة من أيها شاء دخل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 469 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث469
اردو حاشہ:
یہ روایت زید العمی کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے لیکن ایک دفعہ دعا پڑھنے کی احادیث صحیح ہیں جیسے کہ اگلی حدیث میں مذکور ہے نیز ایک دفعہ پڑھنے کی مذکورہ بالا فضیلت صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الطهارة، باب الذكر المستحب عقب الوضوء، حديث: 234)
یہ روایت زید العمی کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے لیکن ایک دفعہ دعا پڑھنے کی احادیث صحیح ہیں جیسے کہ اگلی حدیث میں مذکور ہے نیز ایک دفعہ پڑھنے کی مذکورہ بالا فضیلت صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الطهارة، باب الذكر المستحب عقب الوضوء، حديث: 234)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 469]
حدیث نمبر: 469M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 469M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
زيد بن الحواري العمي ← أنس بن مالك الأنصاري