🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. . باب في الجنب يأكل ويشرب
باب: جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صُبَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُنُبِ هَلْ يَنَامُ، أَوْ يَأْكُلُ، أَوْ يَشْرَبُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ (بحالت جنابت) سو سکتا ہے، یا کھا پی سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وہ نماز جیسا وضو کر لے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2280) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں شرحبیل ہیں، جن کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا، لیکن سابقہ حدیث ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شرحبيل بن سعد وثقه ابن حبان وضعفه الجمھور الأئمة،قاله الھيثمي (مجمع الزوائد 5/ 130)
وھو ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شرحبيل بن سعد الخطمي، أبو سعد
Newشرحبيل بن سعد الخطمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن أويس الأصبحي، أبو أويس
Newعبد الله بن أويس الأصبحي ← شرحبيل بن سعد الخطمي
مقبول
👤←👥إسماعيل بن صبيح
Newإسماعيل بن صبيح ← عبد الله بن أويس الأصبحي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عمر الصائدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمر الصائدي ← إسماعيل بن صبيح
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
592
عن الجنب هل ينام أو يأكل أو يشرب قال نعم إذا توضأ وضوءه للصلاة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 592 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث592
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن متناً ومعناً صحیح ہے جیسا کہ گزشتہ حدیث: 585 اور صحیح مسلم کی حدیث نمبر: 302 میں بھی یہ مسئلہ بیان ہوا ہے غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اس روایت کو صحیح قراردیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 592]