الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
134. . باب : المسح على الجبائر
باب: پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ، فَسَأَلْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10077، ومصباح الزجاجة: 247) (ضعیف جدا)» (سند میں عمرو بن خالد کذاب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
عمرو بن خالد الواسطي: متروك،رماه وكيع بالكذب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
إسناده موضوع
عمرو بن خالد الواسطي: متروك،رماه وكيع بالكذب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
657
| انكسرت إحدى زندي فسألت النبي فأمرني أن أمسح على الجبائر |
بلوغ المرام |
115
| انكسرت إحدى زندي، فسالت رسول الله فامرني ان امسح على الجبائر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 657 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث657
اردو حاشہ:
اس روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے کیونکہ ایسا شخص شرعا معذور ہے۔
اس روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے کیونکہ ایسا شخص شرعا معذور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 657]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 115
زخمی کا تیمم کرنا
«. . . وعن علي رضي الله عنه قال: انكسرت إحدى زندي، فسالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فامرني ان امسح على الجبائر . . .»
”. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا گٹ ٹوٹ گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھا (کہ اب میں کیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پٹیوں پر مسح کر لیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 115]
«. . . وعن علي رضي الله عنه قال: انكسرت إحدى زندي، فسالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فامرني ان امسح على الجبائر . . .»
”. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا گٹ ٹوٹ گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھا (کہ اب میں کیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پٹیوں پر مسح کر لیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 115]
� لغوی تشریح:
«زَنْدَيَّ» ”زا“ پر فتحہ، ”نون“ ساکن اور ”یا“ پر تشدید ہے۔ ”زند“ کا تثنیہ ہے اور یائے متکلم کی طرف مضاف ہے۔ اور ”زند“ سے مراد ہتھیلی کی جانب بازو کا جوڑ ہے جسے «رُسْغٌ» ، یعنی گٹا (کلائی) کہتے ہیں۔
«اَلْجَبَائِر» «جَبِيرَة» کی جمع ہے۔ کپڑے یا لکڑی کا ٹکڑا جسے ٹوٹی ہوئی ہڈی پر مضبوطی سے لپیٹ کر باندھا جاتا ہے۔
«وَاهٍ» «وَهٰي يَهِي وَهِيًا» اور «وُهِيًّا» سے ماخوذ ہے۔
فوائد و مسائل:
نہایت کمزور اور ضعیف۔ اس حدیث کے ضعیف ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے۔ وہ نہایت جھوٹا اور دروغ گو آدمی تھا۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بقول اس حدیث کے ضعیف ہونے پر حفاظ حدیث کا اتفاق ہے۔
«زَنْدَيَّ» ”زا“ پر فتحہ، ”نون“ ساکن اور ”یا“ پر تشدید ہے۔ ”زند“ کا تثنیہ ہے اور یائے متکلم کی طرف مضاف ہے۔ اور ”زند“ سے مراد ہتھیلی کی جانب بازو کا جوڑ ہے جسے «رُسْغٌ» ، یعنی گٹا (کلائی) کہتے ہیں۔
«اَلْجَبَائِر» «جَبِيرَة» کی جمع ہے۔ کپڑے یا لکڑی کا ٹکڑا جسے ٹوٹی ہوئی ہڈی پر مضبوطی سے لپیٹ کر باندھا جاتا ہے۔
«وَاهٍ» «وَهٰي يَهِي وَهِيًا» اور «وُهِيًّا» سے ماخوذ ہے۔
فوائد و مسائل:
نہایت کمزور اور ضعیف۔ اس حدیث کے ضعیف ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے۔ وہ نہایت جھوٹا اور دروغ گو آدمی تھا۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بقول اس حدیث کے ضعیف ہونے پر حفاظ حدیث کا اتفاق ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 115]
حدیث نمبر: 657M
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 657M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر | ثقة حافظ | |
👤←👥إسحاق بن إبراهيم الدبري، أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم الدبري ← عبد الرزاق بن همام الحميري | صدوق حسن الحديث |
الحسين بن علي السبط ← علي بن أبي طالب الهاشمي