سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : وقت صلاة الفجر
باب: نماز فجر کا وقت۔
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78، قَالَ:" تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ: «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» (سورة الإسراء: 78) کی تفسیر میں فرمایا: ”اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث عبد اللہ بن مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3135)، وحدیث أبي ہریرة أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 47 (215)، التفسیر 18 (3135)، (تحفة الأشراف: 12332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 31 (648)، صحیح مسلم/المساجد 42 (649)، مسند احمد (2/233) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو رات اور دن دونوں کے فرشتے فجر اور عصر کے وقت، جمع ہو جاتے ہیں اور یہ مضمون دوسری حدیث میں مزید صراحت سے آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
670
| تشهده ملائكة الليل والنهار |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 670 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث670
اردو حاشہ:
(1)
اس سے نماز فجر کی فضیلت اور اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
اس فضیلت میں اس کے ساتھ عصر کی نماز بھی شریک ہے۔
(2)
فرشتوں کی حاضری کی وضاحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تمھارے اندر اپنی اپنی باری پر کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو آتے ہیں۔
اور وہ (دونوں گروہ)
فجر اور عصر کی نماز میں (باہم)
جمع ہوتے ہیں پھر جو فرشتے رات کو تمھارے ساتھ رہے ہیں (فجر کی نماز کے بعد)
اوپر (آسمانوں میں)
چلے جاتے ہیں۔
ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے حالانکہ اسے زیادہ علم ہے (فرماتا ہے)
تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انھیں اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاتي الصبح والعصر والمحافظه عليهما، حديث: 632)
فرشتوں کی گواہی سے مومنوں کی شان وعظمت ظاہر ہوتی ہے۔
(1)
اس سے نماز فجر کی فضیلت اور اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
اس فضیلت میں اس کے ساتھ عصر کی نماز بھی شریک ہے۔
(2)
فرشتوں کی حاضری کی وضاحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تمھارے اندر اپنی اپنی باری پر کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو آتے ہیں۔
اور وہ (دونوں گروہ)
فجر اور عصر کی نماز میں (باہم)
جمع ہوتے ہیں پھر جو فرشتے رات کو تمھارے ساتھ رہے ہیں (فجر کی نماز کے بعد)
اوپر (آسمانوں میں)
چلے جاتے ہیں۔
ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے حالانکہ اسے زیادہ علم ہے (فرماتا ہے)
تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انھیں اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاتي الصبح والعصر والمحافظه عليهما، حديث: 632)
فرشتوں کی گواہی سے مومنوں کی شان وعظمت ظاہر ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 670]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي