سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : التغليظ في التخلف عن الجماعة
باب: جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 795
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزَّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 90، ومصباح الزجاجة: 298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/206) (صحیح)» (سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عثمان مجہول اور زبرقان کا سماع اسامہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 381)
وضاحت: ۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ نماز جماعت فرض ہے، جماعت کی حاضری بہت ضروری ہے جماعت کے ترک کی رخصت صرف چند صورتوں میں ہے: سخت سردی، بارش کی رات، کوئی سخت ضرورت ہو جیسے بھوک لگی ہو اور کھانا تیار ہو، پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہو بصورت دیگر سستی یا کاہلی کے سبب جماعت ترک کرنا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
795
| لينتهين رجال عن ترك الجماعة أو لأحرقن بيوتهم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 795 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث795
اردو حاشہ:
رسول اللہ نے اس ارادے پر عمل نہیں فرمایا کیونکہ گھروں میں عورتیں اور بچے ہوتے ہیں جن پر جماعت میں ان کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر فرمایا لیکن جماعت سے پیچھے رہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا باعث تو ہے ہی، چنانچہ اسے ایک کبیرہ گناہ شمار کیا جاسکتا ہے۔
رسول اللہ نے اس ارادے پر عمل نہیں فرمایا کیونکہ گھروں میں عورتیں اور بچے ہوتے ہیں جن پر جماعت میں ان کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر فرمایا لیکن جماعت سے پیچھے رہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا باعث تو ہے ہی، چنانچہ اسے ایک کبیرہ گناہ شمار کیا جاسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 795]
الزبرقان بن عمرو الضمري ← أسامة بن زيد الكلبي