🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : صلاة العشاء والفجر في جماعة
باب: عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 796
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17428)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/80) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر چل نہ سکے تو ہاتھ اور سرین (چوتڑ) کے بل جماعت میں آئیں، اس حدیث سے عشاء اور فجر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کا وقت نیند اور سستی کا وقت ہوتا ہے، اور نفس پر بہت شاق ہوتا ہے کہ آرام چھوڑ کر نماز کے لئے حاضر ہو، اور جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس میں زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عيسى بن طلحة القرشي، أبو محمد
Newعيسى بن طلحة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عيسى بن طلحة القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
796
لو يعلم الناس ما في صلاة العشاء وصلاة الفجر لأتوهما ولو حبوا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 796 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث796
اردو حاشہ:
(1)
  کیا کچھ سے مراد ان نمازوں کا بہت زیادہ ثواب اور ان کی برکات ہیں۔

(2)
یہ برکات اور رحمتیں صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہیں کہ یہ نمازیں باجماعت ادا کی جائیں۔

(3) (حَبوًا)
کے معنی ہیں:
ہاتھوں کے سہارے چلنا یا گھٹنوں یا سرینوں کے بل گھیسٹ گھسٹ کر چلنا۔
مطلب یہ ہے کہ اگر لوگوں کو ان نمازوں کی اہمیت کا کما حقہ احساس ہو جائے تو کبھی ان سے غیر حاضر نہ رہیں خواہ مسجد تک آنے میں انھیں کتنی ہی تکلیف اور مشقت برداشت کرنی پڑے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 796]