علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : المرور بين يدي المصلي
باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَرْسَلُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَأَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ شَهْرًا، أَوْ صَبَاحًا، أَوْ سَاعَةً؟.
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے (نمازی) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”چالیس ... تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے“۔ سفیان بن عیینہ (راوی حدیث) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 944]
حضرت بسر بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (کچھ افراد نے) مجھے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں نمازی کے آگے سے گزرنے کا مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے آگے سے گزرنے کی نسبت چالیس تک ٹھہرے رہنا بہتر ہے۔“ حضرت سفیان (بن عیینہ) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ حدیث میں چالیس سال کا لفظ ہے یا (چالیس) مہینے یا دن یا گھڑیاں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 3749)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 101 (510)، صحیح مسلم/الصلاة 48 (507)، سنن ابی داود/الصلاة 109 (701)، سنن الترمذی/الصلاة 135 (336)، سنن النسائی/القبلة 8 (757)، مسند احمد (4/169) (صحیح)» (آگے کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
-
-
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
944
| لأن يقوم أربعين خير له من أن يمر بين يديه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 944 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث944
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نمازی کے آگے سے گزرنا اتنا بڑا گنا ہ ہے۔
کہ اس سے بچنے کےلئے طویل مدت تک ٹھرنا پڑے تو ٹھرنا چاہیے۔
(2)
محدثین کرام حدیث کی روایت میں اس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے کہ جس لفظ کے بارے میں شک ہوا اس کی وضاحت کردی۔
اس لئے قابل اعتماد سند کے ساتھ روایت ہونے والی حدیث پر عمل کرنا واجب ہے۔
البتہ ضعیف حدیث میں چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت یقینی نہیں ہوتی۔
اس لئے اس پر عمل نہیں کیاجاتا۔
فوائد و مسائل:
(1)
نمازی کے آگے سے گزرنا اتنا بڑا گنا ہ ہے۔
کہ اس سے بچنے کےلئے طویل مدت تک ٹھرنا پڑے تو ٹھرنا چاہیے۔
(2)
محدثین کرام حدیث کی روایت میں اس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے کہ جس لفظ کے بارے میں شک ہوا اس کی وضاحت کردی۔
اس لئے قابل اعتماد سند کے ساتھ روایت ہونے والی حدیث پر عمل کرنا واجب ہے۔
البتہ ضعیف حدیث میں چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت یقینی نہیں ہوتی۔
اس لئے اس پر عمل نہیں کیاجاتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 944]
Sunan Ibn Majah Hadith 944 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← زيد بن خالد الجهني