🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : ما يستر المصلي
باب: نمازی کے سترہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 943
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْث بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 943]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز پڑھے تو چہرے کے آگے کوئی چیز (سترے کے طور پر) رکھ لے، اگر کچھ نہ ملے تو عصا گاڑ لے، اگر وہ بھی نہ ملے تو لکیر کھینچ لے، پھر اس کے آگے سے جو کچھ بھی گزر جائے گا، اسے کوئی نقصان نہ دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 103 (989، 690)، (تحفة الأشراف: 12240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 249، 254، 266، 3/249، 255، 266) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں ابو عمرو اور ان کے دادا حریث مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 781)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (689،690)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥حريث بن عمار العذري
Newحريث بن عمار العذري ← أبو هريرة الدوسي
مقبول
👤←👥أبو عمرو بن حريث العذري، أبو عمرو
Newأبو عمرو بن حريث العذري ← حريث بن عمار العذري
مجهول
👤←👥إسماعيل بن أمية الأموي
Newإسماعيل بن أمية الأموي ← أبو عمرو بن حريث العذري
ثقة حافظ ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← إسماعيل بن أمية الأموي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عمار بن خالد التمار، أبو إسماعيل، أبو الفضل
Newعمار بن خالد التمار ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أمية الأموي
Newإسماعيل بن أمية الأموي ← عمار بن خالد التمار
ثقة حافظ ثبت
👤←👥حميد بن الأسود البصري، أبو الأسود
Newحميد بن الأسود البصري ← إسماعيل بن أمية الأموي
صدوق حسن الحديث
👤←👥بكر بن خلف البصري، أبو بشر
Newبكر بن خلف البصري ← حميد بن الأسود البصري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
689
إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا فإن لم يجد فلينصب عصا فإن لم يكن معه عصا فليخطط خطا لا يضره ما مر أمامه
سنن ابن ماجه
943
إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا فإن لم يجد فلينصب عصا فإن لم يجد فليخط خطا لا يضره ما مر بين يديه
بلوغ المرام
185
‏‏‏‏إذا صلى احدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا،‏‏‏‏ فإن لم يجد فلينصب عصا،‏‏‏‏ فإن لم يكن فليخط خطا،‏‏‏‏ ثم لا يضره من مر بين يديه
مسندالحميدي
1023
إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا، فإن لم يجد شيئا، فلينصب عصا، فإن لم يجد عصا، فليخطط خطا ثم لا يضره ما مر بين يديه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 943 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث943
اردو حاشہ:
یہ روایت ضعیف ہے۔
اس لئے روایت سے خط کھینچنے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 943]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 185
سترے کے لئے صرف لکیر کھینچنا
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا صلى احدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا،‏‏‏‏ فإن لم يجد فلينصب عصا،‏‏‏‏ فإن لم يكن فليخط خطا،‏‏‏‏ ثم لا يضره من مر بين يديه . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو اپنے سامنے کوئی چیز گاڑ لے یا قائم کر لے . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 185]
لغوی تشریح:
«فَلْيَنْصِبْ» «ىنَسْبٌ» سے ماخوذ ہے۔ یہ باب ضرب اور نصر دونوں سے آتا ہے۔ زمین میں کسی چیز کو گاڑنا، قائم کرنا، کھڑا کرنا وغیرہ۔
«لَمْ يُصِبْ» سے ماخوذ ہے یعنی وہ صواب اور درستی کو نہیں پہنچ سکا۔ سترے کے لئے صرف لکیر کھینچنے میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ تو اس سے منع کرتا ہے اور جماعت اس کی قائل ہے اور انہوں نے سترے کے لیے جب کوئی چیز دستیاب نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں لکیر کھینچنے کو کافی سمجھا ہے۔ پھر اس میں بھی اختلاف رائے ہے کہ سترے کی کیفیت کیسی ہو؟ امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ ہلالی صورت کا ہونا چاہیے، یعنی محراب کی طرح قوس دار۔ اور بعض نے کہا ہے قبلہ رخ لمبا خط کھینچا جائے۔ اور یہ بھی رائے ہے کہ دائیں سے بائیں کھینچا جائے۔

فائدہ:
اس حدیث کو مضطرب کہنے والے ابن صلاح ہیں۔ مصنف نے [ضعيف سنن أبى داود، حديث 134] میں تفصیل سے اس پر نقد کیا ہے، نیز ہمارے فاضل محقق اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اس لیے کہ اس میں شدید اضطراب ہے اور دو مجہول راوی ہیں۔ دیکھیے: [ضعيف سنن أبى داود، حديث: 134] لہٰذا سترے کے لیے خط (لکیر) کھینچنا درست نہیں ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 185]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1023
1023- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کوئی شخص نماز ادا کرے، تو وہ سامنے کی طرف کوئی چیز رکھ لے، اگر اسے کوئی چیز نہیں ملتی، تو وہ لاٹھی کھڑی کرلے، اگر لاٹھی بھی نہیں ملتی، تو وہ لیکر کھینچ لے۔ پھر اس کی دوسری طرف سے جو بھی گزرے گا وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1023]
فائدہ:
یہ روایت ضعیف ہے لیکن نمازی کا سترے کا اہتمام کرنا صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے، کچھ تفصیل پہلے بھی گزر چکی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1022]

Sunan Ibn Majah Hadith 943 in Urdu