سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب الخط إذا لم يجد عصا
باب: سترہ کے لیے لاٹھی نہ ملے تو زمین پر لکیر کھینچ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ حُرَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے، تو اپنے آگے (بطور سترہ) کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر (خط) کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 689]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے۔ اگر کچھ نہ ملے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے۔ اگر اس کے پاس عصا (لاٹھی) نہ ہو تو خط ہی کھینچ لے۔ پھر اس کے آگے سے جو بھی گزرے اسے نقصان نہ ہو گا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة 36 (943)، (تحفة الأشراف: 12240)، وقد أخرجہ: حم(2/249، 254، 266) (ضعیف)» (اس حدیث کے روای ابوعمرو اور ان کے دادا حریث کے ناموں میں بڑا اختلاف ہے، نیز یہ دونوں مجہول راوی ہیں، آگے مؤلف اس کی تفصیل دے رہے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (943)
ابن عمرو بن حريث وجده مجهولان (تقريب : 8272،1183)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
إسناده ضعيف
ابن ماجه (943)
ابن عمرو بن حريث وجده مجهولان (تقريب : 8272،1183)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
689
| إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا فإن لم يجد فلينصب عصا فإن لم يكن معه عصا فليخطط خطا لا يضره ما مر أمامه |
سنن ابن ماجه |
943
| إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا فإن لم يجد فلينصب عصا فإن لم يجد فليخط خطا لا يضره ما مر بين يديه |
بلوغ المرام |
185
| إذا صلى احدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا، فإن لم يجد فلينصب عصا، فإن لم يكن فليخط خطا، ثم لا يضره من مر بين يديه |
مسندالحميدي |
1023
| إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا، فإن لم يجد شيئا، فلينصب عصا، فإن لم يجد عصا، فليخطط خطا ثم لا يضره ما مر بين يديه |
Sunan Abi Dawud Hadith 689 in Urdu
حريث بن عمار العذري ← أبو هريرة الدوسي