🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : ما يكره في الصلاة
باب: نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَدِّبُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ فِي الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14173)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 88 (643) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (643) ترمذي (378)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥الحسن بن ذكوان البصري، أبو سلمة
Newالحسن بن ذكوان البصري ← عطاء بن أبي رباح القرشي
صدوق يخطئ
👤←👥محمد بن راشد التميمي
Newمحمد بن راشد التميمي ← الحسن بن ذكوان البصري
مقبول
👤←👥سفيان بن زياد العقيلي، أبو سهل، أبو سعيد
Newسفيان بن زياد العقيلي ← محمد بن راشد التميمي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
378
نهى رسول الله عن السدل في الصلاة
سنن أبي داود
643
نهى عن السدل في الصلاة وأن يغطي الرجل فاه
سنن ابن ماجه
966
نهى رسول الله أن يغطي الرجل فاه في الصلاة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 966 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث966
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے شیخ نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے بنا بریں اسے حسن ماننے کی صورت میں نماز کے دوران میں منہ پر کپڑا ڈالنا یا کپڑے سے منہ چھپانا منوع ہوگا۔
اس عمل کو اہل عرب سدل سے تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ بعض روایات میں لفظ سدل کا بھی ذکر آیا ہے۔
دیکھئے: (مسند احمد، 348، 345، 341، 295، وسنن ابی داؤد، الصلاۃ، حدیث: 644، 643)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 966]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 643
نماز میں سدل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل ۱؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 643]
643. اردو حاشیہ:
  ➊ سدل کی شارحیں حدیث نے یہ وضاحت کی ہے کہ چادر کو اس کے درمیان سے اپنے سر یا کندھوں پر ڈال لیا جائے اور اس کی دائیں بائیں اطراف لٹکی رہیں۔ یا صاحب النہایہ کے بیان کے مطابق کپڑے کو اس انداز سے اپنے اوپر لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو جائیں اور پھر رکوع اور سجدے میں بھی ان کو نہ نکالا جائے، تو یہ صورتیں نماز کےمنافی ہیں۔
➋ روایت ضعیف ہے، اس لیے مسئلے کےاثبات کے لیے کافی نہیں۔ تاہم شیخ البانی  رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک صحیح ہے، بنابریں اس صورت میں سدل ممنوع ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 643]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 378
نماز میں سدل کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 378]
اردو حاشہ:
1؎:
سدل کی صور ت یہ ہے کہ چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو لٹکتا چھوڑ دیا جائے اور سدل کی ایک تفسیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ کُرتا یا جُبہ اس طرح پہنا جائے کہ دونوں ہاتھ آستین میں ڈالنے کے بجائے اندر ہی رکھے جائیں اور اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا جائے۔

2؎:
اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے،
حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں،
کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے،
چاہے سدل کی جو بھی تفسیرکی جائے۔

نوٹ:
(عسل بن سفیان بصری ضعیف راوی ہے،
اس لیے یہ سند ضعیف ہے،
لیکن ابو جحیفہ کے شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 378]