علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : إتمام المصلي على ما ذكر إذا شك
باب: جب نمازی کو (نماز میں) شک ہو جائے تو جو یقینی طور پر یاد ہو اس پر بنا کرے۔
حدیث نمبر: 1240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، ثُمَّ يَسْجُدْ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ , وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (نماز پڑھتے وقت) نہ جان پائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اسے ایک رکعت اور پڑھ لینی چاہیئے، پھر وہ ان سب کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، (اب) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی، تو یہ دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کا اور اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرنے کا سبب بنیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1240]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو پتا نہ چلے کہ اس نے تین (رکعات) پڑھی ہیں یا چار؟ تو وہ ایک رکعت مزید پڑھ کر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اگر اس نے پانچ (رکعات) پڑھی ہوں گی تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے اور اگر چار پڑھی ہیں تو یہ شیطان کی ذلت کا سبب ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1272
| إذا شك أحدكم في صلاته فلم يدر كم صلى ثلاثا أم أربعا فليطرح الشك وليبن على ما استيقن ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته وإن كان صلى إتماما لأربع كانتا ترغيما للشيطان |
جامع الترمذي |
396
| إذا صلى أحدكم فلم يدر كيف صلى فليسجد سجدتين وهو جالس |
سنن أبي داود |
1029
| إذا صلى أحدكم فلم يدر زاد أم نقص فليسجد سجدتين |
سنن أبي داود |
1024
| إذا شك أحدكم في صلاته فليلق الشك وليبن على اليقين فإذا استيقن التمام سجد سجدتين فإن كانت صلاته تامة كانت الركعة نافلة والسجدتان وإن كانت ناقصة كانت الركعة تماما لصلاته وكانت السجدتان مرغمتي الشيطان |
سنن ابن ماجه |
1204
| إذا صلى أحدكم فلم يدر كم صلى فليسجد سجدتين وهو جالس |
سنن ابن ماجه |
1210
| إذا شك أحدكم في صلاته فليلغ الشك وليبن على اليقين فإذا استيقن التمام سجد سجدتين فإن كانت صلاته تامة كانت الركعة نافلة وإن كانت ناقصة كانت الركعة لتمام صلاته وكانت السجدتان رغم أنف الشيطان |
سنن النسائى الصغرى |
1239
| إذا شك أحدكم في صلاته فليلغ الشك وليبن على اليقين فإذا استيقن بالتمام فليسجد سجدتين وهو قاعد فإن كان صلى خمسا شفعتا له صلاته وإن صلى أربعا كانتا ترغيما للشيطان |
سنن النسائى الصغرى |
1240
| إذا لم يدر أحدكم صلى ثلاثا أم أربعا فليصل ركعة ثم يسجد بعد ذلك سجدتين وهو جالس فإن كان صلى خمسا شفعتا له صلاته وإن صلى أربعا كانتا ترغيما للشيطان |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1240 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري