🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : النهى عن الإشارة بأصبعين وبأى أصبع يشير
باب: دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کس انگلی سے اشارہ کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي , فَقَالَ:" أَحِّدْ أَحِّدْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اور میں (تشہد میں) اپنی انگلیوں ۱؎ سے (اشارہ کرتے ہوئے) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1499)، (تحفة الأشراف: 3850) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1499) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله المخرمي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الله المخرمي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ أمين
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1274
مر علي رسول الله وأنا أدعو بأصابعي فقال أحد أحد وأشار بالسبابة
سنن أبي داود
1499
مر علي النبي وأنا أدعو بأصبعي فقال أحد أحد وأشار بالسبابة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1274 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1274
1274۔ اردو حاشیہ:
➊ ممکن ہے پہلی حدیث میں بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہی کا واقعہ ہو تو پھر کئی انگلیوں سے مراد ایک سے زائد، یعنی دو ہوں گی ورنہ یہ الگ الگ واقعات ہیں۔
➋ مذکورہ روایات کو محقق کتاب نے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے انہیں صحیح قرار دیا ہے۔ محقق عصر شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود (مفصل) میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ دونوں روایتیں صحیح ہیں۔ بنابریں معلوم ہوا کہ اشارہ ایک ہی انگلی سے کرنا چاہیے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن النسائي: 1/407، رقم: 1271 1272، و سنن أبي داود (مفصل): 5/235، 236، رقم: 1244]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1274]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1499
دعا کا بیان۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1499]
1499. اردو حاشیہ: نماز میں ایک انگلی سے اشارہ اللہ کی توحید کا اثبات اور اس کی طرف اشارہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1499]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1274 in Urdu