سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. باب : التوقيت في المسح على الخفين للمقيم
باب: مقیم کے لیے موزوں پر مسح کے بارے میں وقت کی تحدید کا بیان۔
حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ يَمْسَحَ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثًا".
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر: ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مالک سے مشہور یہ روایت ہے کہ مسح کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک چاہے مسح کرے، ان کی دلیل ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے لیکن وہ ضعیف ہے، لائق استدلال نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
128
| للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن يوما وليلة للمقيم في المسح |
سنن النسائى الصغرى |
129
| يمسح المقيم يوما وليلة المسافر ثلاثا |
صحيح مسلم |
639
| ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر يوما وليلة للمقيم |
سنن ابن ماجه |
552
| نمسح للمقيم يوما وليلة للمسافر ثلاثة أيام |
سنن الدارمي |
737
| ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر يوما وليلة للمقيم |
بلوغ المرام |
57
| ثلاثة ايام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم، يعني في المسح على الخفين |
مسندالحميدي |
46
| يوم وليلة للمقيم، وثلاثة أيام ولياليهن للمسافر |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 129 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 129
129۔ اردو حاشیہ:
➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود جواب دینے کی بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف رہنمائی فرمائی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی مسح گھر سے باہر ہی تھا، اس لیے حضرت عائشہ کو مسح کے مسائل سے متعلق پوری معلومات شاید نہ ہوں۔
➋ مقیم سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے گھر میں ٹھہرا ہوا ہو یا سفر کے دوران میں کسی جگہ اقامت کی نیت سے رہائش اختیار کر لے۔
➌ جس مسئلے کا علم نہ ہو، اس کے متعلق اہل علم سے پوچھ لینا چاہیے۔
➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود جواب دینے کی بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف رہنمائی فرمائی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی مسح گھر سے باہر ہی تھا، اس لیے حضرت عائشہ کو مسح کے مسائل سے متعلق پوری معلومات شاید نہ ہوں۔
➋ مقیم سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے گھر میں ٹھہرا ہوا ہو یا سفر کے دوران میں کسی جگہ اقامت کی نیت سے رہائش اختیار کر لے۔
➌ جس مسئلے کا علم نہ ہو، اس کے متعلق اہل علم سے پوچھ لینا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 129]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث552
مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 552]
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 552]
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ موزوں پر مسح کی مدت مقرر ہے اور یہ مدت مسافر کے لیے مقیم سے زیادہ ہے۔
(2)
اگر مسافر موزے نہ اتارے تو تین دن رات اور مقیم ایک دن رات تک وضو میں پاؤں دھونے کے بجائے صرف مسح پر اکتفاء کرسکتا ہے۔
موزے اتارنے کی صورت میں پاؤں دھونا ضروری ہیں۔
(3)
مسح کی ابتداء حدث کے بعد پہلے مسح شمار کی جائے گی۔
(4)
سائل کو اپنے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانے میں شامل نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار اور دوسرے کے علم وفضل کا اعتراف ہے جس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ موزوں پر مسح کی مدت مقرر ہے اور یہ مدت مسافر کے لیے مقیم سے زیادہ ہے۔
(2)
اگر مسافر موزے نہ اتارے تو تین دن رات اور مقیم ایک دن رات تک وضو میں پاؤں دھونے کے بجائے صرف مسح پر اکتفاء کرسکتا ہے۔
موزے اتارنے کی صورت میں پاؤں دھونا ضروری ہیں۔
(3)
مسح کی ابتداء حدث کے بعد پہلے مسح شمار کی جائے گی۔
(4)
سائل کو اپنے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانے میں شامل نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار اور دوسرے کے علم وفضل کا اعتراف ہے جس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 552]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:46
46- شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے یہ سوال کرو، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے۔ ”مقیم کے لئے اس کی مدت ایک دن اور ایک رات، جبکہ مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ہیں۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:46]
فائدہ:
اس حدیث میں موزوں اور جرابوں پر مسح کی مدت بیان ہوئی ہے کہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں، یعنی اتنی مدت مسح کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سائل کو اپنے سے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانا نہیں ہے، بلکہ اہل علم کی قدر اور شریعت کے امور میں غلطی سے بچنے کا باعث ہے، اور اس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔
اس حدیث میں موزوں اور جرابوں پر مسح کی مدت بیان ہوئی ہے کہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں، یعنی اتنی مدت مسح کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سائل کو اپنے سے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانا نہیں ہے، بلکہ اہل علم کی قدر اور شریعت کے امور میں غلطی سے بچنے کا باعث ہے، اور اس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 46]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 639
شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی خاطر حاضر ہوا، تو انہوں نے کہا: علی بن ابی طالب ؓ کے پاس جاؤ! اور ان سے پوچھو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مقرر فرمایا۔“ عبدالرزاق کہتے ہی: سفیان (ثوری) جب عمرو کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:639]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ ؓ حضرت علی ؓ کا نام لینے یا ان کا ذکر خیر کرنے میں کوئی انقباض محسوس نہیں کرتی تھیں،
اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں جو دو آدمی آپ کو مسجد میں سہارا د ے کر لے گئے،
ان میں سے ایک کا نام لینا اوردوسرے کا نام نہ لینا اس بناء پر نہیں تھا کہ آپ اس کا نام لینا پسند نہیں کرتی تھیں۔
آگے صراحتاً حضرت علی ؓ کا نام آرہا ہے۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوا مدت مسح (موزوں پر)
مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ہے،
اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے،
ہاں غسل کی صورت میں موزے اتارنے ہوں گے۔
اس لیے امام مالک کی طرف منسوب قول:
کہ مسح کے لیے کوئی مدت مقررنہیں درست نہیں ہے۔
(3)
جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ پوچھاجائے اور اس سے بہتر بتانے والا موجود ہو تو اسے سائل کو اس سے پوچھنےکے لیے کہنا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ ؓ حضرت علی ؓ کا نام لینے یا ان کا ذکر خیر کرنے میں کوئی انقباض محسوس نہیں کرتی تھیں،
اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں جو دو آدمی آپ کو مسجد میں سہارا د ے کر لے گئے،
ان میں سے ایک کا نام لینا اوردوسرے کا نام نہ لینا اس بناء پر نہیں تھا کہ آپ اس کا نام لینا پسند نہیں کرتی تھیں۔
آگے صراحتاً حضرت علی ؓ کا نام آرہا ہے۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوا مدت مسح (موزوں پر)
مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ہے،
اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے،
ہاں غسل کی صورت میں موزے اتارنے ہوں گے۔
اس لیے امام مالک کی طرف منسوب قول:
کہ مسح کے لیے کوئی مدت مقررنہیں درست نہیں ہے۔
(3)
جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ پوچھاجائے اور اس سے بہتر بتانے والا موجود ہو تو اسے سائل کو اس سے پوچھنےکے لیے کہنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 639]
شريح بن هانئ الحارثي ← علي بن أبي طالب الهاشمي