سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : فيمن أحب لقاء الله
باب: اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے محبت کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1839
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ. ح وأَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" , زَاد عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ , قَالَ:" ذَاكَ عِنْدَ مَوْتِهِ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَمَغْفِرَتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا، (عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے) اس پر اللہ کے رسول سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! (اگر) اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرنا موت کو ناپسند کرنا ہے، تو ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے مرنے کے وقت کی بات ہے، جب اسے اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے (جلد) ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جب اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو (ڈر کی وجہ سے) ملنا ناپسند کرتا ہے، اور وہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1839]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (نزع کے وقت) اللہ تعالیٰ سے ملنا اچھا سمجھتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا اچھا سمجھتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا برا سمجھتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا برا سمجھتا ہے۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے ملنے کو ناپسند کرنے کا مطلب موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہم میں سے تو ہر شخص موت کو ناپسند کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ موت کے وقت کی بات ہے کہ جب مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ملنا چاہتا ہے اور جب کافر کو اللہ کے عذاب کی اطلاع دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 41 (6507) (تعلیقاً)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 5 (2684)، سنن الترمذی/الجنائز 67 (1067)، سنن ابن ماجہ/الزھد 31 (4264)، (تحفة الأشراف: 16103)، مسند احمد 6/44، 55، 207 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1839
| من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه |
صحيح مسلم |
6826
| من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه والموت قبل لقاء الله |
صحيح مسلم |
6824
| من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه فقلت يا نبي الله أكراهية الموت فكلنا نكره الموت فقال ليس كذلك ولكن المؤمن إذا بشر برحمة الله ورضوانه وجنته أحب لقاء الله فأحب الله لقاءه وإن الكافر إذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله وكر |
جامع الترمذي |
1067
| من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه قالت فقلت يا رسول الله كلنا نكره الموت قال ليس ذلك ولكن المؤمن إذا بشر برحمة الله ورضوانه وجنته أحب لقاء الله وأحب الله لقاءه وإن الكافر إذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله وكره الله لقاء |
سنن ابن ماجه |
4264
| من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه فقيل يا رسول الله كراهية لقاء الله في كراهية لقاء الموت فكلنا يكره الموت قال لا إنما ذاك عند موته إذا بشر برحمة الله ومغفرته أحب لقاء الله فأحب الله لقاءه وإذا بشر بعذاب الله كره لقاء الله و |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1839 in Urdu
سعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق