🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب : الأمر بالصلاة على الميت
باب: مردے پر نماز جنازہ پڑھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1948
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ النَّيْسَابُورِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ".
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی مر گیا ہے، اٹھو اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 22 (953)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 48 (1039)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1535)، (تحفة الأشراف: 10886)، مسند احمد 4/431، 433، 446 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥معاوية بن عمرو البصري، أبو المهلب
Newمعاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← معاوية بن عمرو البصري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني
ثقة حجة حافظ
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد
Newعمرو بن أبي عمرو الكلابى ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← عمرو بن أبي عمرو الكلابى
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2210
أخا لكم قد مات فقوموا فصلوا عليه
جامع الترمذي
1039
أخاكم النجاشي قد مات قوموا فصلوا عليه
سنن ابن ماجه
1535
أخاكم النجاشي قد مات فصلوا عليه قام فصلينا خلفه وإني لفي الصف الثاني فصلى عليه
سنن النسائى الصغرى
1948
أخاكم قد مات فقوموا فصلوا عليه
سنن النسائى الصغرى
1977
أخاكم النجاشي قد مات قوموا فصلوا عليه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1948 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1948
1948۔ اردو حاشیہ: امام صاحب کا مقصد یہ ہے کہ جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے، یعنی ہر (مسلم) میت کا جنازہ ضرور ہونا چاہیے، تھوڑے لوگ پڑھیں یا زیادہ، ورنہ سب گناہ گار ہوں گے۔ اس حدیث سے بالتبع جنازۂ غائبانہ بھی ثابت ہوتا ہے، امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں جبکہ حنفی اور مالکی اس کے قائل نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے اور مذکوورہ حدیث اس کی دلیل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1948]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1977
جنازہ پر صف بندی کا بیان۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، تو ہم کھڑے ہوئے (اور) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز (جنازہ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1977]
1977۔ اردو حاشیہ: جیسے میت پر کی جاتی ہے گویا جنازے میں صف بندی ایک مشہور اور غیر متنازعہ بات ہے۔ ویسے بھی جنازے کے لیے لفظ نماز کا استعمال دلالت کرتا ہے کہ جنازے کے خصوصی احکام کے علاوہ نماز کے تمام احکام اس پر لاگو ہوں گے، مثلاً: قبلے کی طرف منہ کرنا، وضو کرنا، صفیں درست کرنا اور فاتحہ کی قرأت وغیرہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1977]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1039
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں سے فرمایا: تمہارے بھائی نجاشی ۱؎ کا انتقال ہو گیا ہے۔ تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔‏‏‏‏ تو ہم کھڑے ہوئے اور صف بندی کی جیسے میت کے لیے کی جاتی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1039]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب تھاجیسے روم کے بادشاہ کا لقب قیصراورایران کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا،
نجاشی کا وصفی نام اصحمہ بن ابجرتھا اسی بادشاہ کے دورمیں مسلمانوں کی مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت ہوئی تھی،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 6ھ؁ کے آخر یا محرم 7ھ؁ میں نجاشی کو عمروبن امیہ ضمری کے ذریعہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی توانہوں نے آپ کے مکتوب گرامی کا بوسہ لیا،
اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اوراپنے تخت شاہی سے نیچے اترآیا اورجعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ساری تفصیل لکھ کر بھیج دی غزوئہ تبوک 9ھ؁ کے بعد ماہ رجب میں ان کی وفات ہوئی۔

2؎:
اس سے بعض لوگوں نے صلاۃِجنازہ غائبانہ کے جواز پراستدلال کیا ہے،
صلاۃِ جنازہ غائبانہ کے سلسلہ میں مناسب یہ ہے کہ اگرمیت کی صلاۃ جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تب پڑھی جائے اوراگرپڑھی جاچکی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ اداہوگیا الا یہ کہ کوئی محترم اورصالح شخصیت ہو تو پڑھنابہترہے یہی قول امام احمدبن حنبل شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم رحہم اللہ کا ہے عام مسلمانوں کا جنازہ غائبانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اورنہ ہی تعامل امت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1039]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2210
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی فوت ہو چکا ہے، تو اٹھو اوراس کا جنازہ پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نجاشی تھا، زہیر کی روایت میں إِنَّ أَخَالكُمْ کی بجائے أَخَاكُمْ ہے۔ (مقصد ایک ہی ہے)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2210]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

شاہ حبشہ کا لقب نجاشی ہے۔
اور حبشہ کا ہر بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مسلمان ہو کر مرنے والا نجاشی اصحمہ تھا جس کی وفات رجب 9ہجری میں ہوئی۔

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایسا انسان فوت ہوا جس کا امت مسلمہ کے ہاں مقام ومرتبہ اس کی خوبیوں اور کمالات کی بنا پر تسلیم شدہ ہو کہ سب لوگ اس کے احسان مند ہوں تو اس کا غائبانہ جنازہ پڑھا جائے گا۔
حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس معتدل مؤقف کو اختیار کیا ہے۔
ائمہ اربعہ کا اس بارے میں اختلاف ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک غائبانہ جنازہ جائز ہے کیونکہ بقول امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ صلاۃ جنازہ دعا ہے اور دعا موجود اورغائب دونوں کے لیے ہو سکتی ہے۔
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے بہت سے ساتھی غائبانہ طور پر فوت ہوئے ہیں۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
خلاصہ یہی ہے کہ کسی عظیم شخصیت کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنا صحیح ہے اور ہر نیک آدمی کے لیے درست نہیں ہے۔

ائمہ اربعہ کا جنازہ کی چار تکبیرات ہونے پر اتفاق ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2210]