سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
186. باب : ما يفعل من أهل بعمرة وأهدى
باب: عمرہ کا احرام باندھنے والے کے پاس ہدی ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2995
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ"، قَالَتْ: وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَأَقَامَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ، فَأَحْلَلْتُ، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَتَطَيَّبْتُ مِنْ طِيبِي، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے (یعنی احرام کھول دے) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے“، زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو میں سے، خوشبو لگائی، پھر (جا کر) زبیر کے پاس بیٹھی، تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ ڈر رہے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2995]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتے ہوئے (مکہ کو) آئے۔ جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ (عمرہ کر کے) حلال ہو جائے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے۔“ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: (میرے خاوند) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، لہٰذا وہ اپنے احرام پر قائم رہے۔ میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئی اور میں نے اپنے عام کپڑے پہن لیے اور خوشبو بھی لگائی، پھر میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے قریب ہو کر بیٹھی تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ میں نے (مذاق میں) کہا: کیا آپ کو خطرہ ہے کہ میں آپ پر زبردستی کود پڑوں گی؟ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 29 (1236)، سنن ابن ماجہ/الحج 41 (2983)، (تحفة الأشراف: 15739)، مسند احمد (6/350، 351) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3002
| من كان معه هدي فليقم على إحرامه من لم يكن معه هدي فليحلل |
سنن ابن ماجه |
2983
| من كان معه هدي فليقم على إحرامه من لم يكن معه هدي فليحلل قالت فلم يكن معي هدي فأحللت وكان مع الزبير هدي فلم يحل فلبست ثيابي وجئت إلى الزبير فقال قومي عني فقلت أتخشى أن أثب عليك |
سنن النسائى الصغرى |
2995
| من لم يكن معه هدي فليحلل ومن كان معه هدي فليقم على إحرامه |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2995 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2995
اردو حاشہ:
”دور ہو کر بیٹھو“ کیونکہ احرام کے دوران میں صرف جماع ہی حرام نہیں بلکہ مقدمات جماع، مثلاً: شہوت سے ہاتھ لگانا اور بوسہ وغیرہ لینا بھی منع ہے۔ خوشبو وغیرہ کی موجودگی میں میلان طبعی چیز ہے، اس لیے دور رہنے کا حکم دیا۔
”دور ہو کر بیٹھو“ کیونکہ احرام کے دوران میں صرف جماع ہی حرام نہیں بلکہ مقدمات جماع، مثلاً: شہوت سے ہاتھ لگانا اور بوسہ وغیرہ لینا بھی منع ہے۔ خوشبو وغیرہ کی موجودگی میں میلان طبعی چیز ہے، اس لیے دور رہنے کا حکم دیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2995]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2995 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية