🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
231. باب : ما يحل للمحرم بعد رمى الجمار
باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد محرم کے لیے کیا کیا چیز حلال ہو جاتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3086
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ، قِيلَ: وَالطِّيبُ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَقَدْ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَضَمَّخُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ هُوَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہو گئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ (اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج 70 (3041)، (تحفة الأشراف: 5397)، مسند احمد (1/234، 344، 369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3041) الحسن العرني ثقة أرسل عن ابن عباس رضى الله عنه (تقريب: 1252) فالسند منقطع والثوري عنعن. ولبعض الحديث شاهد عند مسلم (1189) وأحمد (6/ 244 ) وغيرهما وهو يغني عنه. فائدة: روي البيهقي (5/ 135 وسنده صحيح) عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: خطب الناس عمر بن الخطاب رضى الله عنه بعرفة فحدثهم عن مناسك الحج فقال فيما يقول: إذا كان بالغداة إن شاء الله تعالي فدفعتم من جمع فمن رمي جمرة القصوي التى عند العقبة بسبع حصيات ثم انصرف فنحر هديًا إن كان له ثم حلق أو قصر فقد حل له ما حرم عليه من شأن الحج....إلخ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحسن بن عبد الله العرني
Newالحسن بن عبد الله العرني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى
Newسلمة بن كهيل الحضرمي ← الحسن بن عبد الله العرني
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سلمة بن كهيل الحضرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3086
رأيت رسول الله يتضمخ بالمسك أفطيب هو
سنن ابن ماجه
3041
يضمخ رأسه بالمسك أفطيب ذلك أم لا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3086 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3086
اردو حاشہ:
یہ 10 ذوالحجہ کی بات ہے۔ مزدلفہ سے منیٰ آتے ہی صرف جمرہ عقبہ کو رمی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر حاجی کے پاس قربانی کا جانور ہے تو اسے ذبح کیا جائے۔ احرام ختم ہے۔ اب وہ حجامت کروائے، نہائے دھوئے خوشبو لگائے، سلے ہوئے کپڑے پہنے حتی کہ طواف زیارت (فرض طواف) بھی احرام کے بغیر کرے گا، البتہ طواف زیارت سے پہلے بیوی سے جماع حرام ہے۔ جب طواف زیارت کر لے تو اب اس کے لیے بیوی بھی حلال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر اور ایام تشریق کو کھانے پینے اور ذکر اللہ کے دن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 1141)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3086]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3041
جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد آدمی کے لیے حلال ہو جانے والی چیزوں کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب تم رمی جمار کر چکتے ہو تو ہر چیز سوائے بیوی کے حلال ہو جاتی ہے، اس پر ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر میں مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3041]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  دس ذی الحجہ کو چار کام ہوتے ہیں:

(ا)
بڑے جمرے کو رمی کرنا۔

(ب)
قربانی کرنا
(ج)
سر منڈوانا
(د)
طواف افاضہ کرنا۔

ان چاروں کاموں کی یہ ترتیب مسنون ہے۔
تاہم اگر ان کی یہ ترتیب قائم نہ رہے تب بھی حج درست ہےکوئی فدیہ وغیرہ لازم نہیں آتا۔

(2)
  جمرے کو رمی کرنا پہلا کام ہے۔
اس کی ادائیگی سے احرام کھل جاتا ہے۔
اس لیے طواف افاضہ عام کپڑوں میں کیا جاتا ہے۔

(3)
طواف افاضہ کیے بغیر ازدواجی تعلقات جائزنہیں ہوتے۔

(4)
اگر دس تاریخ کو مغرب سے پہلے طواف افاضہ نہ کیا جاسکے تو بعد میں کیا جاسکتا ہے۔
لیکن اس کے لیے دس تاریخ کو مغرب سے پہلے دوبارہ احرام باندھنا ضروری ہوگا۔ (سنن أبي داؤد حديث: 1999)
تاہم اس طواف کی ادائیگی تک ازدواجی تعلقات پر پابندی قائم رہے گی۔

(5)
مرد کسی بھی قسم کی خوشبو استعمال کرسکتا ہےبشرطیکہ احرام کھول چکا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3041]