🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب : حق الرضاع وحرمته
باب: رضاعت کے حق و احترام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3331
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ، قَالَ:" غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ".
حجاج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کر سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: شریف غلام یا شریف لونڈی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3331]
حضرت حجاج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز رضاعت کا حق ادا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی (رضاعی والدہ کو دے دو)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 12 (2064)، سنن الترمذی/الرضاع 6 (1153)، مسند احمد (3/450)، سنن الدارمی/النکاح 50 (2300) (ضعیف) (اس کے راوی ”حجاج بن حجاج“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی شریف ولائق غلام یا شریف ولائق لونڈی دے دو تاکہ وہ اس کی خدمت کرے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحجاج بن مالك الحجازيصحابي
👤←👥الحجاج بن الحجاج الأشجعي
Newالحجاج بن الحجاج الأشجعي ← الحجاج بن مالك الحجازي
مقبول
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← الحجاج بن الحجاج الأشجعي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3331
ما يذهب عني مذمة الرضاع قال غرة عبد أو أمة
جامع الترمذي
1153
ما يذهب عني مذمة الرضاع قال غرة عبد أو أمة
سنن أبي داود
2064
ما يذهب عني مذمة الرضاعة قال الغرة العبد أو الأمة
مسندالحميدي
901
الغرة العبد أو الأمة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3331 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3331
اردو حاشہ:
(1) حقیقی والدہ کا حق تو ادا ہی نہیں ہوسکتا‘ البتہ جس کا دودھ پیا ہو‘ اسے خدمت لے لیے غلام یا لونڈی دے دیے جائیں تو حق ادا ہوجائے گا۔ جس طرح ا س نے اس کی بچپن میں خدمت کی تھی‘ اسی طرح یہ غلام یا لونڈی اس کی خدمت کریں گے۔ یہ تو صرف خدمت کا معاوضہ ہے۔ باقی رہے شفقت اور محبت جو رضاعی والدہ نے اس کے ساتھ کی تھی‘ ا س کے عوض تا حیات اس کا احترام کرے اور اسے اپنی ایک ماں سمجھے‘ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام یمنؓ کے بارے میں فرمایا: [أُمُّ أَیْمَنَ أُمِّیی بَعْدَ أُمِّیی] (اسد الغابة: رقم: 7371)
(2) آدمی کو احسان فراموش نہیں ہونا چاہیے بلکہ صاحب احسان یاد رکھنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اسے اس کا بدلہ دینا چاہیے اور اگر استطاعت نہ ہو تو اس کے حق میں دعا گو رہنا چاہیے۔
(3) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم احکام دین سمجھنے پر بہت حریص تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3331]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2064
دودھ چھڑانے کے وقت دودھ پلانے والی کو انعام دینے کا بیان۔
حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی یا غلام (دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے) سے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2064]
فوائد ومسائل:
عربوں میں یہ رواج تھا کہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے قرب وجوار کے دیہاتوں میں اجرت پر بھیج دیا کرتےتھے، علاوہ ازیں وہ مقررہ اجرت کے علاوہ دودہ چھڑانے پر (مرضبعہ) دودھ پلانے والی انا کو کوئی انعام دینا بھی پسند کرتے تھے، اس حدیث میں اسی کا حق مرضعہ کی بابت بیان کیا گیا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2064]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1153
حق رضاعت کس چیز سے ادا ہوتا ہے۔
حجاج اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے رسول! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ایک جان: غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1153]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی حجاج بن حجاح تابعی ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1153]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:901
901-حجاج اسلمی اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! رضاعت کی وجہ سے لازم ہونے کے حق کو کون سی چیز ختم کردیتی ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشانی، یعنی غلام یا کنیز (کو رضا عت کے معاوضے کے طور پرادا کرنا چاہیے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:901]
فائدہ:
۔ اس حدیث میں رضاعت (وہ عورت جس نے کسی دوسرے بچے کو دودھ پلایا ہے) کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 900]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3331 in Urdu