سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : الحلف بالأمهات
باب: ماں کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3800
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور شریکوں ۱؎ کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھاؤ اور تم قسم نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم سچے ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 5 (3248)، (تحفة الأشراف: 14483) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بتوں اور معبودان باطلہ کی قسم نہ کھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل عوف بن أبي جميلة الأعرابي ← محمد بن سيرين الأنصاري | صدوق رمي بالقدر والتشيع | |
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ معاذ بن معاذ العنبري ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي | ثقة متقن | |
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو عبيد الله بن معاذ العنبري ← معاذ بن معاذ العنبري | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن علي الأموي، أبو بكر أحمد بن علي الأموي ← عبيد الله بن معاذ العنبري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3800
| لا تحلفوا بآبائكم ولا بأمهاتكم لا بالأنداد لا تحلفوا إلا بالله ولا تحلفوا إلا وأنتم صادقون |
سنن أبي داود |
3248
| لا تحلفوا بآبائكم ولا بأمهاتكم لا بالأنداد لا تحلفوا إلا بالله ولا تحلفوا بالله إلا وأنتم صادقون |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3800 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3800
اردو حاشہ:
(1) لفظ ”انداد“ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں لوگ معبود سمجھتے ہیں یا معبود جیسا سلوک کرتے ہیں‘ خواہ زندہ ہوں یا مردہ‘ جاندار ہوں یا بے جان۔ چونکہ اس وقت عام بتوں کی پوچا ہوتی تھی‘ اس لیے یہ معنی کیے گئے ہیں‘ نیز یاد رہنا چاہیے کہ بت دراصل کچھ نیک لوگوں کے مجسمے تھے ورنہ شرک صرف پتھروں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔
(2) اگرچہ ہر غیراللہ کی قسم کھانا منع ہے مگر بتوں یا معروف معبودوں کی قسم کھانا تو شرک ہے‘ اس لیے کہ یہ مشرکین سے مشابہت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی قسم کھانا بھی اس میں داخل ہے۔
(3) جھوٹی قسم کھانا حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں ذکر ہے۔
(1) لفظ ”انداد“ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں لوگ معبود سمجھتے ہیں یا معبود جیسا سلوک کرتے ہیں‘ خواہ زندہ ہوں یا مردہ‘ جاندار ہوں یا بے جان۔ چونکہ اس وقت عام بتوں کی پوچا ہوتی تھی‘ اس لیے یہ معنی کیے گئے ہیں‘ نیز یاد رہنا چاہیے کہ بت دراصل کچھ نیک لوگوں کے مجسمے تھے ورنہ شرک صرف پتھروں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔
(2) اگرچہ ہر غیراللہ کی قسم کھانا منع ہے مگر بتوں یا معروف معبودوں کی قسم کھانا تو شرک ہے‘ اس لیے کہ یہ مشرکین سے مشابہت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی قسم کھانا بھی اس میں داخل ہے۔
(3) جھوٹی قسم کھانا حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں ذکر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3800]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي