سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : الاغتسال بالماء البارد
باب: ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 403
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رُقْبَةَ، عَنْ مَجْزَأَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ".
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
402
| اللهم طهرني من الذنوب والخطايا اللهم نقني منها كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد |
سنن النسائى الصغرى |
403
| اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد اللهم طهرني من الذنوب كما يطهر الثوب الأبيض من الدنس |
جامع الترمذي |
3547
| اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 403 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 403
403۔ اردو حاشیہ: میل کچیل اتارنے کے لیے عام طور پر گرم پانی استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ ٹھنڈا، مگر یہاں برف، پانی اور اولوں سے اللہ تعالیٰ کی مخصوص رحمتیں مراد ہیں، لہٰذا ٹھنڈک کا ذکر فرمایا کہ وہ سکون کا ذریعہ ہے۔ اللہ کی رحمت کو آگ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ (پانی آگ سے گرم کیا جاتا ہے)۔ اس لیے ٹھنڈے پانی کا ذکر فرمایا۔ ویسے عرب کی گرم ترین فضا میں ٹھنڈا پانی مطلوب و محبوب ہوتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 403]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 402
برف اور اولوں سے غسل کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 402]
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 402]
402۔ اردو حاشیہ: وضاحت کے لیے دیکھیے، حدیث: 60 اور اس کا فائدہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 402]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3547
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ”اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک و صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3547]
عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ”اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک و صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3547]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک وصاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک وصاف کیا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک وصاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک وصاف کیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3547]
مجزأة بن زاهر الأسلمي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي