🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : الاغتسال بالماء البارد
باب: ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 403
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رُقْبَةَ، عَنْ مَجْزَأَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ".
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥مجزأة بن زاهر الأسلمي
Newمجزأة بن زاهر الأسلمي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة
👤←👥رقبة بن مصقلة العبدي، أبو عبد الله
Newرقبة بن مصقلة العبدي ← مجزأة بن زاهر الأسلمي
ثقة مأمون
👤←👥إبراهيم بن يزيد المخزومي
Newإبراهيم بن يزيد المخزومي ← رقبة بن مصقلة العبدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن موسى الجزري، أبو يحيى
Newمحمد بن موسى الجزري ← إبراهيم بن يزيد المخزومي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يحيى الكلبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الكلبي ← محمد بن موسى الجزري
ثقة صاحب حديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
402
اللهم طهرني من الذنوب والخطايا اللهم نقني منها كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد
سنن النسائى الصغرى
403
اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد اللهم طهرني من الذنوب كما يطهر الثوب الأبيض من الدنس
جامع الترمذي
3547
اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس
سنن نسائی کی حدیث نمبر 403 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 403
403۔ اردو حاشیہ: میل کچیل اتارنے کے لیے عام طور پر گرم پانی استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ ٹھنڈا، مگر یہاں برف، پانی اور اولوں سے اللہ تعالیٰ کی مخصوص رحمتیں مراد ہیں، لہٰذا ٹھنڈک کا ذکر فرمایا کہ وہ سکون کا ذریعہ ہے۔ اللہ کی رحمت کو آگ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ (پانی آگ سے گرم کیا جاتا ہے)۔ اس لیے ٹھنڈے پانی کا ذکر فرمایا۔ ویسے عرب کی گرم ترین فضا میں ٹھنڈا پانی مطلوب و محبوب ہوتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 403]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 402
برف اور اولوں سے غسل کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 402]
402۔ اردو حاشیہ: وضاحت کے لیے دیکھیے، حدیث: 60 اور اس کا فائدہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 402]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3547
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک و صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3547]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک وصاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک وصاف کیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3547]