پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : ما يدبغ به جلود الميتة
باب: مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4254
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ:" أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ".
عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پڑھ کر سنایا گیا (اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا) کہ تم لوگ مردے کی بغیر دباغت کی ہوئی کھال یا پٹھے سے فائدہ مت اٹھاؤ“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4254]
حضرت عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اس وقت جوان لڑکا تھا جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا گیا کہ ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 42 (4127)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1727)، سنن ابن ماجہ/اللباس 26 (3613)، (تحفة الأشراف: 6642)، مسند احمد (4/310، 311)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4255، 4256) (صحیح) (الإرواء 38، وتراجع الالبانی 470)»
وضاحت: ۱؎: بعض لوگوں نے اس حدیث کو ناسخ، اور ابن عباس اور میمونہ رضی اللہ عنہم کی حدیثوں کو منسوخ قرار دیا ہے کیونکہ یہ مکتوب آپ کی وفات سے چھ ماہ پہلے کا ہے، لیکن جمہور محدثین نے اس کے برخلاف پچھلی حدیثوں کو ہی سند کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہونے کی بنیاد پر راجح قرار دیا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، پچھلی حدیثوں میں جو مردار کے چمڑے سے نفع اٹھانے کی اجازت ہے وہ دباغت کے بعد ہے، اور (مخضرم راوی) عبداللہ بن عکیم کی حدیث میں جو ممانعت ہے وہ دباغت سے پہلے کی ہے (دیکھئیے اگلی حدیث) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بعد نضر بن سہیل سے نقل کیا ہے کہ «إہاب» دباغت سے پہلے والے چمڑے کو کہتے ہیں، اور دباغت کے بعد چمڑے کو «شف» یا «قربۃ» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1729
| لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
سنن أبي داود |
4128
| لا ينتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
سنن أبي داود |
4127
| لا تستمتعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
سنن ابن ماجه |
3613
| لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
المعجم الصغير للطبراني |
534
| لا تستنفعوا تستمتعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
المعجم الصغير للطبراني |
550
| لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
سنن النسائى الصغرى |
4254
| لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
سنن النسائى الصغرى |
4255
| لا تستمتعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
سنن النسائى الصغرى |
4256
| لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4254 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4254
اردو حاشہ:
(1) حضرت عبد اﷲ عکیم صحابی نہیں لیکن آپ کے دور میں موجود تھے اور مسلمان تھے مگر آپ کی زیارت نصیب نہ ہوسکی۔ ایسے شخص کو محد ثین کی اصطلاح میں کہتے ہیں۔ مخضرم کے معنیٰ ہیں: ”صحابہ سے الگ کیا گیا باوجود اس زمانے میں ہونے کے۔“
(2) یہ روایت سابقہ روایات کے خلاف ہے مگر وہ اس سے صحیح تر ہیں، نیز تطبیق بھی ممکن ہے کہ دباغت کے بغیر چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ دباغت کے بعد فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یہ اشارہ احادیث میں موجود ہے، لہٰذا جن حضرات نے اس حدیث متاخر ہے کیونکہ یہ آپ کی وفات سے صرف ایک ماہ قبل کی ہے۔“ مگر نسخ تو آخری حربہ ہے۔ اگر تطبیق ممکن ہے تو نسخ کی کیا ضرورت ہے؟ جمہور تطبیق ہی کے قائل ہیں۔
(1) حضرت عبد اﷲ عکیم صحابی نہیں لیکن آپ کے دور میں موجود تھے اور مسلمان تھے مگر آپ کی زیارت نصیب نہ ہوسکی۔ ایسے شخص کو محد ثین کی اصطلاح میں کہتے ہیں۔ مخضرم کے معنیٰ ہیں: ”صحابہ سے الگ کیا گیا باوجود اس زمانے میں ہونے کے۔“
(2) یہ روایت سابقہ روایات کے خلاف ہے مگر وہ اس سے صحیح تر ہیں، نیز تطبیق بھی ممکن ہے کہ دباغت کے بغیر چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ دباغت کے بعد فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یہ اشارہ احادیث میں موجود ہے، لہٰذا جن حضرات نے اس حدیث متاخر ہے کیونکہ یہ آپ کی وفات سے صرف ایک ماہ قبل کی ہے۔“ مگر نسخ تو آخری حربہ ہے۔ اگر تطبیق ممکن ہے تو نسخ کی کیا ضرورت ہے؟ جمہور تطبیق ہی کے قائل ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4254]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4255
مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
عبداللہ بن عُکیم جہنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکھ بھیجا: ”تم لوگ مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4255]
عبداللہ بن عُکیم جہنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکھ بھیجا: ”تم لوگ مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4255]
اردو حاشہ:
”لکھ کر“ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ تحریر لکھی لیکن صحیح نہیں۔ آپ لکھنا یا لکھا ہوا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ یہ بات قطعی دلائل سے ثابت ہے، لہٰذا اس حدیث مجاز ہے، یعنی تحریر لکھوائی۔
”لکھ کر“ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ تحریر لکھی لیکن صحیح نہیں۔ آپ لکھنا یا لکھا ہوا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ یہ بات قطعی دلائل سے ثابت ہے، لہٰذا اس حدیث مجاز ہے، یعنی تحریر لکھوائی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4255]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4256
مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
عبداللہ بن عُکیم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو لکھا: ”مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اس باب میں ”مردار کی کھال جبکہ اسے دباغت دی گئی ہو“ سب سے صحیح حدیث زہری کی حدیث ہے جسے عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس سے اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں (نمبر ۴۲۳۹)، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4256]
عبداللہ بن عُکیم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو لکھا: ”مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اس باب میں ”مردار کی کھال جبکہ اسے دباغت دی گئی ہو“ سب سے صحیح حدیث زہری کی حدیث ہے جسے عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس سے اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں (نمبر ۴۲۳۹)، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4256]
اردو حاشہ:
گویا امام صاحب اس روایت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دونوں روایات میں تطبیق پیچھے گزر چکی ہے۔
گویا امام صاحب اس روایت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دونوں روایات میں تطبیق پیچھے گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4256]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4127
مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: ”مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4127]
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: ”مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4127]
فوائد ومسائل:
ظاہر ہے کہ رنگے بغیر مردار کا چمرہ استعمال کرنا جائز نہیں۔
علاوہ ازیں اجزا کا حکم مردارہی کا ہے۔
ظاہر ہے کہ رنگے بغیر مردار کا چمرہ استعمال کرنا جائز نہیں۔
علاوہ ازیں اجزا کا حکم مردارہی کا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4127]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3613
مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3613]
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3613]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں اس سے مراد چمڑا ہے جس کو دباغت کے ذریعے سے پاک نہ کر لیا گیا ہو۔
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں اس سے مراد چمڑا ہے جس کو دباغت کے ذریعے سے پاک نہ کر لیا گیا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3613]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1729
دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1729]
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1729]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دباغت سے پہلے کی حالت پرمحمول ہے،
گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
نوٹ:
(نیز ملاحظہ ہو:
الإرواء 38،
والصحیحة: 3133،
والضعیفة: 118،
تراجع الألبانی: 15 و 470)
وضاحت:
1؎:
دباغت سے پہلے کی حالت پرمحمول ہے،
گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
نوٹ:
(نیز ملاحظہ ہو:
الإرواء 38،
والصحیحة: 3133،
والضعیفة: 118،
تراجع الألبانی: 15 و 470)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1729]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4254 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← عبد الله بن عكيم الجهني