🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء في جلود الميتة إذا دبغت
باب: دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1729
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَالشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ، وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ، قَالَ: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَذْهَبُ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ، وَكَانَ يَقُولُ: كَانَ هَذَا آخِرَ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَرَكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا الْحَدِيثَ لَمَّا اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ، حَيْثُ رَوَى بَعْضُهُمْ فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ.
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے،
۳- اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے،
۴- عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا،
۵- میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا،
۶- پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے، چنانچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ اللباس 42 (4127)، سنن النسائی/الفرع 54 (2455، 2456)، سنن ابن ماجہ/اللباس 26 (3613)، (تحفة الأشراف: 6642)، و مسند احمد (4/210، 311) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء 38، والصحیحة 3133، والضعیفة 118، تراجع الألبانی 15 و 470)»
وضاحت: ۱؎: دباغت سے پہلے کی حالت پر محمول ہے، گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3613)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عكيم الجهني، أبو معبدصحابي صغير
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← عبد الله بن عكيم الجهني
ثقة
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥محمد بن طريف بن خليفة، أبو جعفر
Newمحمد بن طريف بن خليفة ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1729
لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
سنن أبي داود
4128
لا ينتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
سنن أبي داود
4127
لا تستمتعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
سنن ابن ماجه
3613
لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
المعجم الصغير للطبراني
534
لا تستنفعوا تستمتعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
المعجم الصغير للطبراني
550
لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
سنن النسائى الصغرى
4254
لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
سنن النسائى الصغرى
4255
لا تستمتعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
سنن النسائى الصغرى
4256
لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1729 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1729
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دباغت سے پہلے کی حالت پرمحمول ہے،
گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔

نوٹ:
(نیز ملاحظہ ہو:
الإرواء 38،
والصحیحة: 3133،
والضعیفة: 118،
تراجع الألبانی: 15 و 470)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1729]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4254
مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پڑھ کر سنایا گیا (اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا) کہ تم لوگ مردے کی بغیر دباغت کی ہوئی کھال یا پٹھے سے فائدہ مت اٹھاؤ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4254]
اردو حاشہ:
(1) حضرت عبد اﷲ عکیم صحابی نہیں لیکن آپ کے دور میں موجود تھے اور مسلمان تھے مگر آپ کی زیارت نصیب نہ ہوسکی۔ ایسے شخص کو محد ثین کی اصطلاح میں کہتے ہیں۔ مخضرم کے معنیٰ ہیں: صحابہ سے الگ کیا گیا باوجود اس زمانے میں ہونے کے۔
(2) یہ روایت سابقہ روایات کے خلاف ہے مگر وہ اس سے صحیح تر ہیں، نیز تطبیق بھی ممکن ہے کہ دباغت کے بغیر چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ دباغت کے بعد فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یہ اشارہ احادیث میں موجود ہے، لہٰذا جن حضرات نے اس حدیث متاخر ہے کیونکہ یہ آپ کی وفات سے صرف ایک ماہ قبل کی ہے۔ مگر نسخ تو آخری حربہ ہے۔ اگر تطبیق ممکن ہے تو نسخ کی کیا ضرورت ہے؟ جمہور تطبیق ہی کے قائل ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4254]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4255
مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
عبداللہ بن عُکیم جہنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکھ بھیجا: تم لوگ مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4255]
اردو حاشہ:
لکھ کر ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ تحریر لکھی لیکن صحیح نہیں۔ آپ لکھنا یا لکھا ہوا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ یہ بات قطعی دلائل سے ثابت ہے، لہٰذا اس حدیث مجاز ہے، یعنی تحریر لکھوائی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4255]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4256
مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
عبداللہ بن عُکیم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو لکھا: مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اس باب میں مردار کی کھال جبکہ اسے دباغت دی گئی ہو سب سے صحیح حدیث زہری کی حدیث ہے جسے عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس سے اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں (نمبر ۴۲۳۹)، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4256]
اردو حاشہ:
گویا امام صاحب اس روایت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دونوں روایات میں تطبیق پیچھے گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4256]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4127
مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4127]
فوائد ومسائل:
ظاہر ہے کہ رنگے بغیر مردار کا چمرہ استعمال کرنا جائز نہیں۔
علاوہ ازیں اجزا کا حکم مردارہی کا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4127]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3613
مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3613]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں اس سے مراد چمڑا ہے جس کو دباغت کے ذریعے سے پاک نہ کر لیا گیا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3613]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1729 in Urdu