سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الاِسْتِمْتَاعِ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
باب: دباغت کی ہوئی مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4257
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب کہ وہ دباغت دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4257]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”جب مردار کے چمڑے کو رنگ دیا جائے تو اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 41 (4124)، سنن ابن ماجہ/اللباس 25 (3612)، (تحفة الأشراف: 17991)، مسند احمد 736، 104، 148، 153 (ضعیف) (اس کی راویہ ’’ام محمد‘‘ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا مضمون دیگر احادیث سے ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4124
| أمر أن يستمتع بجلود الميتة إذا دبغت |
سنن ابن ماجه |
3612
| يستمتع بجلود الميتة إذا دبغت |
المعجم الصغير للطبراني |
118
| دباغ الأديم طهوره |
سنن النسائى الصغرى |
4249
| دباغها طهورها |
سنن النسائى الصغرى |
4250
| دباغها ذكاتها |
سنن النسائى الصغرى |
4251
| ذكاة الميتة دباغها |
سنن النسائى الصغرى |
4252
| ذكاة الميتة دباغها |
سنن النسائى الصغرى |
4257
| أمر أن يستمتع بجلود الميتة إذا دبغت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4257 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4257
اردو حاشہ:
(1) محقق کتاب نے مذکورہ روایت کو سنداََ ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہ روایت دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد:504/40 و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي:46،34/33)
(2) ”حکم دیا“ یعنی اجازت اور رخصت دی۔ ممکن ہے حکم ہی مراد ہو کیونکہ مال ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔
(1) محقق کتاب نے مذکورہ روایت کو سنداََ ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہ روایت دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد:504/40 و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي:46،34/33)
(2) ”حکم دیا“ یعنی اجازت اور رخصت دی۔ ممکن ہے حکم ہی مراد ہو کیونکہ مال ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4257]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4124
مردہ جانور کی کھال کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4124]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4124]
فوائد ومسائل:
حلال جانور اگر مردار ہو جائے تو اس کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے۔
حلال جانور اگر مردار ہو جائے تو اس کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4124]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4249
مردار جانور کی کھال کے حکم کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کی کھال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4249]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کی کھال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4249]
اردو حاشہ:
دباغت کسی بھی ایسی چیز سے دی جا سکتی ہے جو چمڑے کی رطوبت کو ختم کر دے اور بدبو کو زائل کردے۔
دباغت کسی بھی ایسی چیز سے دی جا سکتی ہے جو چمڑے کی رطوبت کو ختم کر دے اور بدبو کو زائل کردے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4249]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4257 in Urdu
أم محمد بن عبد الرحمن ← عائشة بنت أبي بكر الصديق