سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : المحفلة
باب: جانور کے تھن میں دودھ روک کر اسے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4491
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمُ الشَّاةَ أَوِ اللَّقْحَةَ , فَلَا يُحَفِّلْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب بکری یا اونٹنی بیچے تو اس کے تھن میں دودھ روک کر نہ رکھے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14846)، مسند احمد 2/273، 481 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ایسے جانور کو اگر بیچا جائے گا تو خریدار کے ساتھ دھوکہ ہو گا اور کسی کو دھوکہ دینا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4491 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4491
اردو حاشہ:
”بیچنے کا ارادہ رکھتا ہو“ تاکہ خریدنے والے کو دھوکا نہ لگے، البتہ اگر بیچنے کا پروگرام نہ ہو اور دودھ تھوڑا ہو تو ناغہ کر کے دودھ دوہا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے کسی کو دھوکا دینا مقصود نہیں۔ بعض کا خیال ہے دودھ پستانوں میں جمع رکھنے سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے، لہٰذا دودھ دوہتے رہنا چاہیے لیکن یہ شرعی کی بجائے طبی مسئلہ ہے۔
”بیچنے کا ارادہ رکھتا ہو“ تاکہ خریدنے والے کو دھوکا نہ لگے، البتہ اگر بیچنے کا پروگرام نہ ہو اور دودھ تھوڑا ہو تو ناغہ کر کے دودھ دوہا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے کسی کو دھوکا دینا مقصود نہیں۔ بعض کا خیال ہے دودھ پستانوں میں جمع رکھنے سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے، لہٰذا دودھ دوہتے رہنا چاہیے لیکن یہ شرعی کی بجائے طبی مسئلہ ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4491]
يزيد بن عبد الرحمن السحيمي ← أبو هريرة الدوسي