🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب : السلم في الطعام
باب: اناج میں بیع سلم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4618
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى: عَنِ السَّلَفِ , قَالَ:" كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ فِي الْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرِ إِلَى قَوْمٍ لَا أَدْرِي أَعِنْدَهُمْ أَمْ لَا" , وَابْنُ أَبْزَى , قَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں گی ہوں، جَو اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم، آیا ان کے یہاں یہ چیزیں ہوتی بھی تھیں یا نہیں۔ اور ابن ابزیٰ نے (سوال کرنے پر) اسی طرح کہا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/السلم 2 (2242)، 3 (2244، 2245)، 7 (2254، 2255)، سنن ابی داود/البیوع 57 (3464، 3465)، سنن ابن ماجہ/التجارات 59 (2282)، (تحفة الأشراف: 5171)، مسند احمد (4/354) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «سلف» یا «سلم» یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے کو سامان کی قیمت پیشگی دے دے اور سامان کی ادائیگی کے لیے ایک میعاد مقرر کر لے، ساتھ ہی سامان کا وزن وصف اور نوعیت وغیرہ متعین ہو۔ (اگلی حدیث دیکھیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي، أبو سعيد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاوية
Newعبد الله بن أبي أوفى الأسلمي ← عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي
صحابي
👤←👥عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
Newعبد الله بن أبي المجالد الكوفي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن أبي المجالد الكوفي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عبيد الله بن سعيد اليشكري، أبو قدامة
Newعبيد الله بن سعيد اليشكري ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة مأمون سنى
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2255
نصيب المغانم مع رسول الله فكان يأتينا أنباط من أنباط الشأم فنسلفهم في الحنطة والشعير والزبيب إلى أجل مسمى
سنن النسائى الصغرى
4619
نسلم على عهد رسول الله وعلى عهد أبي بكر وعلى عهد عمر في البر والشعير والزبيب والتمر إلى قوم ما نرى عندهم
سنن النسائى الصغرى
4618
نسلف على عهد رسول الله وأبي بكر وعمر في البر والشعير والتمر إلى قوم لا أدري أعندهم أم لا
سنن ابن ماجه
2282
نسلم على عهد رسول الله وعهد أبي بكر وعمر في الحنطة والشعير والزبيب والتمر عند قوم ما عندهم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4618 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4618
اردو حاشہ:
(1) بیع سلم جائز ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر فاروقؓ کے زریں دور میں بیع سلم ہو کرتی تھی۔ دیگر صحابہ کرام ؓ بھی یہ بیع کیا کرتے تھے۔
(2) بیع کرتے وقت جو چیز موجود ہی نہ ہو اس میں بیع سلم ہو سکتی ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ ادائیگی کے وقت وہ چیز بہر صورت مو جو د ہو۔
(3) ذمی اوردیگر غیر مسلم لوگوں کے ساتھ جس طرح عام تجارت اور خرید و فروخت کرنا جائز ہے، اسی طر ح ان کے ساتھ بیع سلم کرنا بھی درست ہے۔
4) بیع سلم یا سلف ایک ہی چیز ہے کہ خریدار بائع کو رقم پہلے دے دے اور اس سے غلہ (جوکچھ خریدنا مقصود ہو) کی مقدار، جنس و نوع اور بھاؤ طے کرلے اورغلے کی ادائیگی کا وقت متعین کر لے، خواہ ابھی تک وہ غلہ منڈی میں نہ آیا ہو یا بیچا بھی نہ گیا ہو۔ سال دوسال پہلے بھی رقم دی جاسکتی ہے۔ اس قسم کی بیع لوگو ں کی مجبوری ہے کیونکہ زمیندار کاشتکاروں کو فصل کے اخراجات کے لیے رقم کی پیشگی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا اس بیع کو جائز رکھا گیا۔ جو شخص جس سے سودا ہوا ہے، کاشتکار بھی ہو سکتا ہے غیرکاشتکار بھی کیو نکہ وہ خرید کر بھی مہیا کر سکتا ہے۔ اس مسئلے کی کچھ تفصیل حدیث نمبر 4615، فائدہ نمبر 5 اور حدیث نمبر4617 میں بیان ہوچکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4618]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2282
متعین ناپ تول میں ایک مقررہ مدت کے وعدے پر بیع سلف کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں گیہوں، جو، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا، پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2282]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
بیع سلم اور بیع سلف ایک ہی چیز ہے کے دو نام ہیں۔

(2)
بیع سلم جائز ہے۔

(3)
کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے تو اپنے سے بڑے عالم سے مسئلہ پوچھ لینا چاہیے۔

(4)
جب صحیح مسئلہ معلوم ہو جائے تو اختلاف ختم کر دینا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2282]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2255
2255. حضرت محمد بن ابومجالد سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ مجھے ابو بردہ اور عبداللہ بن شداد ؓ نے حضرت عبدالرحمان بن ابزی اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کے پاس بھیجا، چنانچہ میں نے ان سے بیع سلم کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غنیمت کامال ملتا تھا اور ہمارے پاس ملک شام کے کاشتکاروں میں سے کچھ لوگ آتے تو ہم ان سے گندم جو اور منقی کے متعلق معین مدت کی ادائیگی تک بیع سلم کرتے تھے۔ میں نے کہا: ان کی کھیتی ہوتی تھی یا نہیں؟انھوں نے کہا: اس کے متعلق ہم ان سے دریافت نہیں کیاکرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2255]
حدیث حاشیہ:
(1)
سلف اور سلم دونوں الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی کسی چیز کے متعلق پیشگی سودا کرلیا، قیمت پہلے ادا کردی، پھر معین مدت کے بعد معلوم وزن یا ناپ یا تعداد کے اعتبار سے وہ چیز لے لی۔
(2)
جن لوگوں سے غلہ وغیرہ خریدا جاتا ان سے یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں یا نہیں۔
اس سے کوئی غرض نہیں۔
وہ جہاں سے چاہیں مال مہیا کرکے وقت مقررہ پر حوالے کردیں، ہاں اگر متعین طریقے پر یوں معاملہ کیا جائے کہ فلاں کھیت کی گندم اتنے من مطلوب ہے جو وہاں موجود نہیں تو ایسا معاملہ شرعاً درست نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2255]