سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. باب : التغليظ في الدين
باب: قرض کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4689
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ:" أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ لَا تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا بِخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ”کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟“ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے۔ آپ نے تین دفعہ فرمایا: ”کیا یہاں فلاں خاندان کا کوئی فرد ہے؟“ آخر ایک آدمی کھڑا ہوا۔ آپ نے اسے فرمایا: ”پہلی دو دفعہ تجھے کون سی چیز جواب دینے سے مانع تھی؟ میں نے تجھے ایک اچھے مقصد کے لیے بلایا تھا۔ اس قبیلے کا فلاں شخص جو فوت ہو گیا تھا، وہ اپنے قرض کی وجہ سے گرفتار ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 9 (3341)، (تحفة الأشراف: 4623)، مسند احمد (5/20) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے اس کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرو یا قرض خواہ کو راضی کر لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3341) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3341
| ما منعك أن تجيبني في المرتين الأوليين أما إني لم أنوه بكم إلا خيرا إن صاحبكم مأسور بدينه فلقد رأيته أدى عنه حتى ما بقي أحد يطلبه بشيء |
سنن النسائى الصغرى |
4689
| ما منعك في المرتين الأوليين أن لا تكون أجبتني أما إني لم أنوه بك إلا بخير إن فلانا لرجل منهم مات مأسورا بدينه |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4689 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4689
اردو حاشہ:
”گرفتار ہے“ یا جنت میں جانے سے رکا ہوا ہے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ اس کی طرف سے اس کا قرض جلدی ادا کیا جائے تاکہ وہ رہا ہو سکے یا جنت میں داخل ہو سکے۔
”گرفتار ہے“ یا جنت میں جانے سے رکا ہوا ہے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ اس کی طرف سے اس کا قرض جلدی ادا کیا جائے تاکہ وہ رہا ہو سکے یا جنت میں داخل ہو سکے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4689]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3341
قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
فوائد ومسائل:
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بالخصوص قرضے وغیرہ کی ادایئگی کے بغیر چھٹکا را بہت مشکل ہوگا۔
اوروارثوں پر حق ہے۔
کہ اپنے مرنے والے کا قرضہ ادا کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقروض کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
کہ میت کا قرض فورا ادا ہوجائے۔
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بالخصوص قرضے وغیرہ کی ادایئگی کے بغیر چھٹکا را بہت مشکل ہوگا۔
اوروارثوں پر حق ہے۔
کہ اپنے مرنے والے کا قرضہ ادا کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقروض کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
کہ میت کا قرض فورا ادا ہوجائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3341]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4689 in Urdu
سمعان بن مشنج العمري ← سمرة بن جندب الفزاري