🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. باب : التغليظ في الدين
باب: قرض کی شناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4689
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ:" أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ لَا تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا بِخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے۔ آپ نے تین دفعہ فرمایا: کیا یہاں فلاں خاندان کا کوئی فرد ہے؟ آخر ایک آدمی کھڑا ہوا۔ آپ نے اسے فرمایا: پہلی دو دفعہ تجھے کون سی چیز جواب دینے سے مانع تھی؟ میں نے تجھے ایک اچھے مقصد کے لیے بلایا تھا۔ اس قبیلے کا فلاں شخص جو فوت ہو گیا تھا، وہ اپنے قرض کی وجہ سے گرفتار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 9 (3341)، (تحفة الأشراف: 4623)، مسند احمد (5/20) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے اس کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرو یا قرض خواہ کو راضی کر لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3341) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥سمعان بن مشنج العمري
Newسمعان بن مشنج العمري ← سمرة بن جندب الفزاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← سمعان بن مشنج العمري
ثقة
👤←👥سعيد بن مسروق الثوري، أبو سفيان
Newسعيد بن مسروق الثوري ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سعيد بن مسروق الثوري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3341
ما منعك أن تجيبني في المرتين الأوليين أما إني لم أنوه بكم إلا خيرا إن صاحبكم مأسور بدينه فلقد رأيته أدى عنه حتى ما بقي أحد يطلبه بشيء
سنن النسائى الصغرى
4689
ما منعك في المرتين الأوليين أن لا تكون أجبتني أما إني لم أنوه بك إلا بخير إن فلانا لرجل منهم مات مأسورا بدينه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4689 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4689
اردو حاشہ:
گرفتار ہے یا جنت میں جانے سے رکا ہوا ہے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ اس کی طرف سے اس کا قرض جلدی ادا کیا جائے تاکہ وہ رہا ہو سکے یا جنت میں داخل ہو سکے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4689]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3341
قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
فوائد ومسائل:
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بالخصوص قرضے وغیرہ کی ادایئگی کے بغیر چھٹکا را بہت مشکل ہوگا۔
اوروارثوں پر حق ہے۔
کہ اپنے مرنے والے کا قرضہ ادا کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقروض کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
کہ میت کا قرض فورا ادا ہوجائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3341]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4689 in Urdu