🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : الإذن بالخضاب
باب: خضاب لگانے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5072
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 50 (3462)، (تحفة الأشراف: 15190، 15347)، مسند احمد (2/240، 260، 309، 401) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کی مخالفت میں خضاب لگاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← يونس بن عبد الأعلي الصدفي
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥عبيد الله بن سعد القرشي، أبو الفضل
Newعبيد الله بن سعد القرشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5072 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5072
اردو حاشہ:
(1) مخالفت کرنے سے مراد بال رنگنا ہے اور اس کی کئی صورتیں ہیں:٭ان کو سیاہ رنگ سے رنگ لیا جائے۔ لیکن حدیث میں اس کی ممانعت ہے۔٭ حنا، یعنی مہندی سے رنگا جائے اور حنا کا رنگ معروف ہے یعنی سرخ۔٭ حنا اور کتم سے رنگا جائے اور یہ رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔
(2) ڈاڑھی اور سرکے بالوں کو رنگنا واجب ہے یا مستحب؟ اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، تاہم حق یہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں بالوں کو رنگنے ہی کا حکم ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «ان اليهود والنصارى لايصبغون فخالفوهم» یہودی اورعیسائی اپنے بال نہیں رنگتے، تم ان کی مخالفت کرو، یعنی بالوں کو رنگو۔ (صحیح البخاري، اللباس، باب الخضاب، حدیث:5899، وصحیح مسلم، اللباس، باب فی مخالفة الیهود فی الصبغ، حدیث:2103) اس حدیث میں مطلقاً مخالفت کا حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بالوں کو سفید نہ رہنے دو بلکہ ان کو رنگ لو، خواہ کسی رنگ سے ہو، بالوں کو کالا کرنے کے قائل اسی مطلق حکم سے استدلال کرتے ہیں لیکن یہ استدلال درست نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل سیاہ رنگ کے خضاب سے منع فرمایا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ فتح مکہ والے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو ان کےسر اور ڈاڑھی کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا: «غيروا هذا بشئ واجتنبوا لسواد» اسے کسی رنگ سے بدل دو لیکن سیاہ رنگ سے بچنا۔ (صحیح مسلم، اللباس، باب استحباب خضاب الشیب.... حدیث:2102) اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوگیا کہ سراور ڈاڑھی کے بالوں کو رنگنے کا حکم تو ہے لیکن کالے رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ سے انہیں رنگا جائے گا۔ باقی رہا یہ مسئلہ کہ بالوں کو رنگنا فرض ہے یا مستحب؟ تو اس کے متعلق علماء کی دونوں رائے ہیں۔ بعض اہل علم وجوب کے قائل ہیں اور بعض اسے مستحب ہی سمجھتے ہیں۔ ہمارے خیال میں استحباب والا موقف اقرب الی الصواب ہے۔ حافظ عبدالمنان رحمہ اللہ ایک استفتا کا جواب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبالوں کو رنگنے کا بھی ذکر ہے اور نہ رنگنے کا بھی جس سے پتا چلتا ہے کہ آپ کا رنگنے سےمتعلق امر ندب (استحباب) پرمحمول ہے، البتہ کل کے کل بال سفید ہوجائیں کوئی ایک بال بھی سیاہ نہ رہے تو پھر رنگنے کی مزید تاکید ہے جیسا کہ ابوقحافہ، والد ابی بکر رضی اللہ عنہما والی حدیث سے عیاں ہے۔ دیکھئے (احکام ومسائل:531/1) مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں خضاب کا حکم استحباب کےلیے ہونا چاہیے نہ کہ وجوب کے لیے، اس کےلیے کہ حضرت علی، ابی بن کعب، سلمہ بن اکوع اور حضرت انس اور صحابہ کی ایک جماعت نے خضاب کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ رضی اللہ عنہم۔ مزید برآں یہ کہ ان کے علاوہ دوسرے بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل بھی اس پر شاید ہے۔ گویا انہوں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان میں ممتاز ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5072]