🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. باب : ما تحت الكعبين من الإزار
باب: ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5332
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَعْقُوبَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہو گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14099، 14355) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جسم کا وہ حصہ جو ٹخنے سے نیچے ازار (تہبند) سے چھپا ہوا ہے جہنم کی آگ میں جلے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن مسعود الجحدري، أبو مسعود
Newإسماعيل بن مسعود الجحدري ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5787
ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار
سنن النسائى الصغرى
5333
ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار
سنن النسائى الصغرى
5332
ما تحت الكعبين من الإزار ففي النار
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5332 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5332
اردو حاشہ:
یہ سزا تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے کی ہے خواہ تکبر کے بغیر ہو۔ الا یہ کہ سستی سے کبھی کبھار تہبند نیچا ہو جائے اور توجہ ہونے پر فوراً اونچا کر لیا جائے تو پھر یہ وعید اور سزا نہیں ہو گی۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5332]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5333
ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ جہنم کی آگ میں ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5333]
اردو حاشہ:
آگ میں جائے گی گویا وہ شخص آگ میں جائے گا البتہ آگ متعلقہ حصے تک ہی ہو گی۔ جب تک سزا پوری نہیں ہو گی وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5333]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5787
5787. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: تہبند کا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5787]
حدیث حاشیہ:
وہ تہمد والا حصہ جسم کے ساتھ دوزخ میں جلایا جائے گا۔
اور یہ اس تکبر کی سزا ہوگی جس کی وجہ سے اس شخص نے وہ تہمد ٹخنوں سے نیچے لٹکایا۔
أعاذنا اللہ آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5787]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5787
5787. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: تہبند کا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5787]
حدیث حاشیہ:
(1)
ٹخنوں سے نیچے کپڑا کرنے کی دو صورتیں ہیں:
ایک عادت کے طور پر اور دوسرا تکبر کے پیش نظر۔
شریعت میں دونوں صورتیں مذموم ہیں۔
ہاں، اگر کوئی عذر ہو تو قابل مؤاخذہ نہیں۔
عذر کے بغیر ایسا کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور ان دونوں کی الگ الگ سزا ہے۔
(2)
اس حدیث میں پہلی صورت کا بیان ہے کہ کپڑے کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں جائے گا اور پہننے والے کو بھی گھسیٹ لے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
مسلمان کا تہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، آدھی پنڈلی سے ٹخنوں تک کے مابین میں کوئی حرج نہیں اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4093)
ایک روایت میں ہے:
چادر وغیرہ کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں۔
(سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5331)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5787]