🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب : إعادة الصلاة مع الجماعة بعد صلاة الرجل لنفسه
باب: تنہا نماز پڑھنے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 858
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ" قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ".
محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے (اور جا کر نماز پڑھی)، پھر (نماز پڑھ کر) لوٹے، اور محجن اپنی مجلس ہی میں بیٹھے رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم آؤ (اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں) تو لوگوں کے ساتھ تم بھی نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم پڑھ چکے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 858]
حضرت محجن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے کہ نماز کی اذان کہی گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، پھر (نماز پڑھ کر) واپس تشریف لائے تو (دیکھا کہ) حضرت محجن رضی اللہ عنہ اپنی جگہ ہی میں بیٹھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ کیا تم مسلمان آدمی نہیں ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں گھر میں نماز پڑھ آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مسجد میں آؤ (اور جماعت مل جائے) تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو، اگرچہ تم (اکیلے) نماز پڑھ چکے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، موطا امام مالک/الجماعة 3 (8)، (تحفة الأشراف: 11219)، مسند احمد 4/34، 338 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محجن بن أبي محجن الديليصحابي
👤←👥بسر بن محجن الديلي
Newبسر بن محجن الديلي ← محجن بن أبي محجن الديلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← بسر بن محجن الديلي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن أسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 858 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 858
858 ۔ اردو حاشیہ:
➊ معلوم ہوا اکیلے آدمی کی نماز بھی ہو جاتی ہے، چاہے گھر ہی میں پڑھ لے، بشرطیکہ کوئی عذر ہو، وگرنہ بلاعذر نماز باجماعت ترک کرنا گناہ ہے، نیز جماعت شرط نہیں ہے جیسا کہ اہل ظاہر کا موقف ہے، بہرحال عذر کی صورت میں معمول کے مطابق اجر ملتا ہے۔
➋ اگرا نسان اکیلا نماز پڑھ لے یہ سمجھ کر کہ جماعت نہ ملے گی یا جماعت ہو چکی ہے یا شاید میں مسجد میں نہ جاس کوں وغیرہ، پھر وہ مسجد میں آئے اور نماز باجماعت مل جائے تو اسے نماز باجماعت دہرانی چاہیے تاکہ جماعت کا ثواب مل جائے۔ احناف تین نمازوں کو دوبارہ پڑھنا جائز نہیں سمجھتے۔ مغرب، فجر اور عصر کیونکہ بعد میں پڑھی جانے والی نماز نفل ہو گی۔ فجر اور عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔ مغرب دوبارہ پڑھنے کی صورت میں تین نفل بن جائیں گے اور نفل تین ہوتے، حالانکہ یہ خاص حکم ہے۔ عصر اور فجر کے بعد نفل کی ممانعت عام ہے۔ عام کو خاص سے مقید کیا جا سکتا ہے۔ باقی رہے تین نفل تو شریعت کا حکم آجانے کے بعد ممانعت جاتی رہی، نیز اگر ان نمازوں کا دہرانا منع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صراحت فرماتے کیونکہ اکثر کا استثنا مناسب نہیں۔ اگر صرف دو نمازیں ہی دہرانی ضروری یا جائز ہوتیں تو صرف ان دو نمازوں ہی کا نام لے لیتے کیونکہ یہاں وضاحت ضروری تھی۔ غلط فہمی کا امکان تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضاحت نہ فرمانا دلیل ہے کہ ہر نماز دہرائی جا سکتی ہے۔ یہ خاص حکم ہے۔ اسے عام پر ترجیح ہو گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 858]

Sunan an-Nasa'i Hadith 858 in Urdu