🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : جامع ما جاء في القرآن
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 939
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: كَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ" فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا عُمَرُ" فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا تو میں ان کی قرآت غور سے سننے لگا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کچھ الفاظ ایسے طریقے پر پڑھ رہے ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھایا تھا، چنانچہ قریب تھا کہ میں ان پر نماز میں ہی جھپٹ پڑوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا، یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر دیا، جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑا، اور پوچھا: یہ سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو: اللہ کی قسم یہی سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے پڑھائی ہے، بالآخر میں انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان کے کچھ الفاظ پڑھتے سنا ہے کہ اس طرح آپ نے مجھے نہیں پڑھایا ہے، حالانکہ سورۃ الفرقان آپ نے ہی مجھ کو پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو، اور ہشام! تم پڑھو! تو انہوں نے اسے اسی طرح پر پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اب تم پڑھو! تو میں نے اس طرح پڑھا جیسے آپ نے مجھے پڑھایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو اسی پر پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 939]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں سورۂ فرقان پڑھتے سنا۔ میں نے ان کی قراءت کی طرف گہری توجہ کی تو پتا چلا کہ وہ بہت سے ایسے الفاظ پڑھ رہے تھے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ میں ان پر نماز ہی کی حالت میں حملہ کر دیتا لیکن میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا حتیٰ کہ انہوں نے سلام پھیرا۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا، میں نے انہی کی چادر ان کے گلے میں ڈالی اور پوچھا: تمہیں کس نے یہ سورت پڑھائی ہے جو میں نے تمہیں پڑھتے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ سورت پڑھائی ہے جو میں نے تم سے پڑھتے سنی ہے۔ میں انہیں کھینچتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۂ فرقان ایسے الفاظ کے ساتھ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے جب کہ آپ نے خود مجھے سورۂ فرقان پڑھائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! انہیں چھوڑ دو۔ اے ہشام! پڑھو۔ انہوں نے آپ کے سامنے اسی طرح قراءت کی جس طرح میں نے ان سے پڑھتے سنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی اتاری گئی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم پڑھو۔ میں نے اسی طرح قراءت کی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن سات لہجوں میں اترا ہے، چنانچہ جو پڑھ سکو، پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 937، (تحفة الأشراف: 10591) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عبد القاري، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي صغير
👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن
Newالمسور بن مخرمة القرشي ← عبد الرحمن بن عبد القاري
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
939
أرسله يا عمر اقرأ يا هشام فقرأ عليه القراءة التي سمعته يقرؤها قال رسول الله هكذا أنزلت ثم قال رسول الله اقرأ يا عمر فقرأت القراءة التي أقرأني قال رسول الله هكذا أنزلت ثم قال رسول الله صلى الله عل
جامع الترمذي
2943
أرسله يا عمر اقرأ يا هشام فقرأ عليه القراءة التي سمعت فقال النبي هكذا أنزلت ثم قال لي النبي اقرأ يا عمر فقرأت بالقراءة التي أقرأني النبي فقال النبي هكذا أنزلت ثم قال النبي صلى
سنن نسائی کی حدیث نمبر 939 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 939
939 ۔ اردو حاشیہ: نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاندانِ قریش کے فرد تھے، اس لیے قرآن کریم قریش کی لغت میں نازل ہوا، پھر قبائل کی دقت کے پیش نظر نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے قرآن کو سات قرأت وں میں پڑھنے کی اجازت لے لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب اسلام عرب سے باہر عجم میں پھیلا تو اختلاف قرأت کی بنا پر آپس میں جھگڑے ہونے لگے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب دوسری مرتبہ قرآن کو جمع کیا گیا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کی سر کردگی میں ایک جماعت نے اسے مرتب کیا۔ حضرت عثمان نے انہیں حکم دیا تھا کہ اگر تمھارا کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اسے قریش کی لغت پر لکھنا کیونکہ قرآن انھی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دیگر قراءات والے نسخہ جات جلا دیے تھے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 4987]
تاکہ عجمی لوگوں کے لیے وہ فتنہ نہ بن جائیں کیونکہ عرب تو عربی کے مختلف لہجوں کے فرق کو سمجھتے تھے مگر عجمی تو انہیں سات قرآن ہی کہتے، لہٰذا انہوں نے اس کا سدباب کر دیا۔ رضي اللہ عنھم وأرضاھم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 939]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2943
قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے۔
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے: میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا، وہ سورۃ الفرقان پڑھ رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے، میں نے ان کی قرأت سنی، وہ ایسے حرفوں پر پڑھ رہے تھے، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا ہی نہ تھا۔ قریب تھا کہ میں ان پر حملہ کر دیتا مگر میں نے انہیں (نماز پڑھ لینے تک کی) مہلت دی۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا میں نے ان کو انہیں کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر گھسیٹا، میں نے ان سے پوچھا: یہ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2943]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
لیکن جس طرح تم پڑھ رہے تھے اس طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھایا،
اس لیے تم غلط گو ہو۔

2؎:
سات حرفوں پر قرآن کے نازل ہو نے کے مطلب میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں،
لیکن سب سے راجح مطلب یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کی ادائیگی (لہجہ) یا اس کے ہم معنی دوسرے لفظ کا استعمال مراد ہے جیسے بعض قبائل ﴿حَتّٰی حِیْنَ﴾  کو عین سے ﴿عتّٰی حِیْنَ﴾  پڑھتے تھے،
اور جیسے ﴿سُکٰریٰ﴾ کو  ﴿سَکْرٰی﴾ یا ﴿سکر﴾   پڑھتے تھے وغیرہ وغیرہ تو جس قبیلے کا جس لفظ میں جو لہجہ تھا اس کو پڑھنے کی اجازت دیدی گئی تاکہ قرآن پڑھنے میں لوگوں کو آسانی ہو،
لیکن اس کا معنی یہ بھی نہیں ہے کہ قرآن کے ہر لفظ میں سات لہجے یا طریقے ہیں،
کسی میں دو،
کسی میں چار،
اورشاذ ونادر کسی میں سات لہجے ہیں،
زیادہ تر میں صرف ایک ہی لہجہ ہے،
عثمان رضی اللہ عنہ نے سب ختم کر کے ایک لہجہ یعنی قریش کی زبان پر قرآن کو جمع کر کے باقی سب کو ختم کرا دیا تھا،
تاکہ اب اس طرح کا جھگڑا ہی نہ ہو،
فجزاہ اللہ عن الاسلام خیراً۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2943]

Sunan an-Nasa'i Hadith 939 in Urdu