سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب ما جاء في إنظار المعسر والرفق به
باب: تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1307
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ، وَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ، أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو.
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب (اس کی موت کے بعد) لیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ (تقاضے کے وقت) تنگ دست سے درگزر کریں، تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا: ہم اس سے زیادہ اس کے (درگزر کے) حقدار ہیں، تم لوگ اسے معاف کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1307]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 6 (البیوع 27)، (1561)، (تحفة الأشراف: 9992)، و مسند احمد (4/120) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح أحاديث البيوع
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3997
| يخالط الناس وكان موسرا فكان يأمر غلمانه أن يتجاوزوا عن المعسر قال قال الله نحن أحق بذلك منه تجاوزوا عنه |
جامع الترمذي |
1307
| يخالط الناس وكان يأمر غلمانه أن يتجاوزوا عن المعسر فقال الله نحن أحق بذلك منه تجاوزوا عنه |
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1307 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← أبو مسعود الأنصاري