سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء في قبول الهدية وإجابة الدعوة
باب: ہدیہ تحفہ اور دعوت قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1338
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ، لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ عَلَيْهِ، لَأَجَبْتُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَسَلْمَانَ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے کھر بھی ہدیہ کی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، عائشہ، مغیرہ بن شعبہ، سلمان، معاویہ بن حیدہ اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1338]
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، عائشہ، مغیرہ بن شعبہ، سلمان، معاویہ بن حیدہ اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1216) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ غریب آدمی کی دعوت اور معمولی ہدیہ کو بھی قبول کیا جائے، اسے کم اور حقیر سمجھ کر رد نہ کیا جائے، اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اور سادگی کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنے سادہ اور متواضع تھے، اپنے لیے آپ کسی تکلف اور اہتمام کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح صحيح الجامع (5257 و 5268)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1338
| لو أهدي إلي كراع لقبلت ولو دعيت عليه لأجبت |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1338 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1338
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ غریب آدمی کی دعوت اورمعمولی ہدیہ کو بھی قبول کیاجائے،
اسے کم اورحقیر سمجھ کر ردّ نہ کیا جائے،
اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اورسادگی کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے سادہ اورمتواضع تھے،
اپنے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی تکلف اوراہتمام کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ غریب آدمی کی دعوت اورمعمولی ہدیہ کو بھی قبول کیاجائے،
اسے کم اورحقیر سمجھ کر ردّ نہ کیا جائے،
اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اورسادگی کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے سادہ اورمتواضع تھے،
اپنے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی تکلف اوراہتمام کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1338]
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري