🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب ما جاء في حد اللوطي
باب: اغلام باز کی سزا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ , فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ , وَالْمَفْعُولَ بِهِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ جَابِرٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , فَقَالَ: مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْقَتْلَ , وَذَكَرَ فِيهِ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى بَهِيمَةً , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ , وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ , وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ , وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي حَدِّ اللُّوطِيِّ , فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ أَحْصَنَ أَوْ لَمْ يُحْصِنْ , وَهَذَا قَوْلُ مَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ , وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ , وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ , وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: حَدُّ اللُّوطِيِّ حَدُّ الزَّانِي , وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول (بدفعلی کرنے اور کرانے والے) دونوں کو قتل کر دو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث بواسطہ ابن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو سے روایت کیا ہے، (لیکن اس میں ہے) آپ نے فرمایا: قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرنے والا ملعون ہے، راوی نے اس حدیث میں قتل کا ذکر نہیں کیا، البتہ اس میں یہ بیان ہے کہ جانور سے وطی (جماع) کرنے والا ملعون ہے، اور یہ حدیث بطریق: «عاصم بن عمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ (اس میں ہے کہ) آپ نے فرمایا: فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو،
۲- اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ہم نہیں جانتے کہ اسے سہیل بن ابی صالح سے عاصم بن عمر العمری کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہے اور عاصم بن عمر کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں،
۳- اس باب میں جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۴- اغلام بازی (بدفعلی) کرنے والے کی حد کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والا شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس کی سزا رجم ہے، مالک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے،
۵- فقہاء تابعین میں سے بعض اہل علم نے جن میں حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطا بن ابی رباح وغیرہ شامل ہیں کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والے کی سزا زانی کی سزا کی طرح ہے، ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحدود 29 (4462)، سنن ابن ماجہ/الحدود 13 (2561) (تحفة الأشراف: 6176)، و مسند احمد (1/269، 300) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ اغلام بازی امور معصیت کے کاموں میں سے ہلاکت خیزی کے اعتبار سے سب سے خطرناک کام ہے اور فساد و بگاڑ کے اعتبار سے کفر کے بعد اسی کا درجہ ہے، اس کی تباہ کاری بسا اوقات قتل کی تباہ کاریوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے، قوم لوط سے پہلے عالمی پیمانہ پر کوئی دوسری قوم اس فحش عمل میں ملوث نہیں پائی گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ یہ قوم مختلف قسم کے عذاب سے دوچار ہوئی، چنانچہ یہ اپنی رہائش گاہوں کے ساتھ پلٹ دی گئی اور زمین میں دھنسنے کے ساتھ آسمان سے نازل ہونے والے پتھروں کا شکار ہوئی، اسی لیے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس کی سزا زنا کی سزا سے کہیں سخت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3561)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥عاصم بن عمر العمري، أبو بكر، أبو عمر
Newعاصم بن عمر العمري ← سهيل بن أبي صالح السمان
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عاصم بن عمر العمري
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي عمرو القرشي، أبو عثمان
Newعمرو بن أبي عمرو القرشي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق يهم
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← عمرو بن أبي عمرو القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عمرو السواق، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو السواق ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1456
من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1456 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1456
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس میں کوئی شک نہیں کہ اغلام بازی امورِمعصیت کے کاموں میں سے ہلاکت خیزی کے اعتبار سے سب سے خطرناک کام ہے اورفساد وبگاڑ کے اعتبار سے کفر کے بعد اسی کا درجہ ہے،
اس کی تباہ کاری بسا اوقات قتل کی تباہ کاریوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے،
قومِ لوط سے پہلے عالمی پیمانہ پر کوئی دوسری قوم اس فحش عمل میں ملوث نہیں پائی گئی تھی،
یہی وجہ ہے کہ یہ قوم مختلف قسم کے عذاب سے دوچار ہوئی،
چنانچہ یہ اپنی رہائش گاہوں کے ساتھ پلٹ دی گئی اور زمین میں دہنسنے کے ساتھ آسمان سے نازل ہونے والے پتھروں کا شکار ہوئی،
اسی لیے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس کی سزا زنا کی سزا سے کہیں سخت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1456]