الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْئًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ عورت (کے نکاح کو) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر) مل جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 18 (1486)، (تحفة الأشراف: 10251)، وانظرحم (1/105)، (ویأتی عند المؤلف فی الجنائز برقم: 1075) (ضعیف) (سند میں سعید بن عبد اللہ جہنی لین الحدیث ہیں، اور ان کی عمر بن علی سے ملاقات نہیں ہے، جیسا کہ مؤلف نے خود کتاب الجنائز میں تصریح کی ہے، مگر حدیث کا معنی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (605) ، // ضعيف الجامع الصغير - بترتيبى - برقم (2563) ويأتى برقم (182 / 1087) //
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1075
| ثلاث لا تؤخرها الصلاة إذا أتت والجنازة إذا حضرت والأيم إذا وجدت لها كفئا |
جامع الترمذي |
171
| ثلاث لا تؤخرها الصلاة إذا آنت والجنازة إذا حضرت والأيم إذا وجدت لها كفئا |
سنن ابن ماجه |
1486
| لا تؤخروا الجنازة إذا حضرت |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 171 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 171
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں سعید بن عبداللہ جہنی لین الحدیث ہیں،
اور ان کی عمر بن علی سے ملاقات نہیں ہے،
جیسا کہ مؤلف نے خود کتاب الجنائز میں تصریح کی ہے،
مگر حدیث کا معنی صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں سعید بن عبداللہ جہنی لین الحدیث ہیں،
اور ان کی عمر بن علی سے ملاقات نہیں ہے،
جیسا کہ مؤلف نے خود کتاب الجنائز میں تصریح کی ہے،
مگر حدیث کا معنی صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 171]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1075
جنازہ میں جلدی کرنے کا بیان۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ (کے نکاح) کو جب تم اس کا کفو (مناسب ہمسر) پا لو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1075]
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ (کے نکاح) کو جب تم اس کا کفو (مناسب ہمسر) پا لو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1075]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں سعید بن عبداللہ جہنی لین الحدیث ہیں لیکن دیگردلائل سے حدیث کا معنی صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں سعید بن عبداللہ جہنی لین الحدیث ہیں لیکن دیگردلائل سے حدیث کا معنی صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1075]
عمر بن علي القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي