سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ وَالضَّرْبِ وَالْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ
باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1710
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1710]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 29 (2116)، (تحفة الأشراف: 2816)، و مسند احمد (3/318، 378) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے، چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2185) ، صحيح أبي داود (2310)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5550
| نهى رسول الله عن الضرب في الوجه عن الوسم في الوجه |
صحيح مسلم |
5552
| لعن الله الذي وسمه |
جامع الترمذي |
1710
| نهى عن الوسم في الوجه والضرب |
سنن أبي داود |
2564
| لعنت من وسم البهيمة في وجهها ضربها في وجهها فنهى عن ذلك |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1710 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1710
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے،
چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں،
ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے،
اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
وضاحت:
1؎:
چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے،
چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں،
ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے،
اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1710]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2564
چہرے پر داغنا اور مارنا منع ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2564]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2564]
فوائد ومسائل:
1۔
چہرہ جسم کا قابل عزت حصہ ہے۔
انسان کا ہویا حیوان کا چہرے پر مارنا ممنوع ہے۔
2۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعنت کرنا اپنی مرضی سے نہ تھا، بلکہ الہام الہی کی بنیاد پر تھا-
1۔
چہرہ جسم کا قابل عزت حصہ ہے۔
انسان کا ہویا حیوان کا چہرے پر مارنا ممنوع ہے۔
2۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعنت کرنا اپنی مرضی سے نہ تھا، بلکہ الہام الہی کی بنیاد پر تھا-
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2564]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5550
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور چہرے کو داغنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5550]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الوسم:
داغ،
علامت،
نشان۔
فوائد ومسائل:
امام نووی فرماتے ہیں،
ہر قابل احترام جاندار کے چہرے پر مارنا ممنوع ہے،
انسان،
گدھا،
گھوڑا،
اونٹ،
خچر اور بھیڑ بکری وغیرہ سب اس میں داخل ہیں،
لیکن آدمی کے چہرے پر مارنا انتہائی ممنوع ہے،
کیونکہ چہرہ تمام محاسن کا مرکز ہے اور لطیف (نرم و نازک)
عضو ہے،
جس پر مار کا اثر و نشان پڑ جاتا ہے اور بسا اوقات اس کی بدصورتی کا باعث بنتا ہے اور بعض دفعہ اس سے جو اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے،
اور چہرے پر داغ دینا بھی جائز نہیں ہے،
انسان کے سوا باقی حیوانات کو چہرے کے سوا داغنا ضرورت کے وقت جائز ہے،
اس طرح چہرے کے سوا ضرورت کے تحت مارنا بھی جائز ہے۔
مفردات الحدیث:
الوسم:
داغ،
علامت،
نشان۔
فوائد ومسائل:
امام نووی فرماتے ہیں،
ہر قابل احترام جاندار کے چہرے پر مارنا ممنوع ہے،
انسان،
گدھا،
گھوڑا،
اونٹ،
خچر اور بھیڑ بکری وغیرہ سب اس میں داخل ہیں،
لیکن آدمی کے چہرے پر مارنا انتہائی ممنوع ہے،
کیونکہ چہرہ تمام محاسن کا مرکز ہے اور لطیف (نرم و نازک)
عضو ہے،
جس پر مار کا اثر و نشان پڑ جاتا ہے اور بسا اوقات اس کی بدصورتی کا باعث بنتا ہے اور بعض دفعہ اس سے جو اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے،
اور چہرے پر داغ دینا بھی جائز نہیں ہے،
انسان کے سوا باقی حیوانات کو چہرے کے سوا داغنا ضرورت کے وقت جائز ہے،
اس طرح چہرے کے سوا ضرورت کے تحت مارنا بھی جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5550]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1710 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري