🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب ما جاء في اللقمة تسقط
باب: گرے ہوئے لقمہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1802
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَسَقَطَتْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گر جائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ۱؎، اسے پھر کھا لے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 18 (2033)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 13 (3279)، (تحفة الأشراف: 278)، و مسند احمد (3/301، 231، 331)، 337، 366، 394) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی گرے ہوئے نوالہ پر جو گردوغبار جم گیا ہے، اسے ہٹا کر اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے، اسے کھا لے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے کیونکہ چھوڑنے سے اس نعمت کی ناقدری ہو گی، لیکن اس کا بھی لحاظ رہے کہ وہ نوالہ ایسی جگہ نہ گرا ہو جو ناپاک اور گندی ہو، اگر ایسی بات ہے تو بہتر ہو گا کہ اسے صاف کر کے کسی جانور کو کھلا دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3279)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← محمد بن مسلم القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5300
بلعق الأصابع والصحفة لا تدرون في أيه البركة
صحيح مسلم
5301
إذا وقعت لقمة أحدكم فليأخذها فليمط ما كان بها من أذى وليأكلها لا يدعها للشيطان لا يمسح يده بالمنديل حتى يلعق أصابعه لا يدري في أي طعامه البركة
صحيح مسلم
5303
إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه حتى يحضره عند طعامه فإذا سقطت من أحدكم اللقمة فليمط ما كان بها من أذى ثم ليأكلها لا يدعها للشيطان فإذا فرغ فليلعق أصابعه لا يدري في أي طعامه تكون البركة
جامع الترمذي
1802
إذا أكل أحدكم طعاما فسقطت لقمة فليمط ما رابه منها ثم ليطعمها لا يدعها للشيطان
سنن ابن ماجه
3279
إذا وقعت اللقمة من يد أحدكم فليمسح ما عليها من الأذى وليأكلها
سنن ابن ماجه
3270
لا يمسح أحدكم يده حتى يلعقها لا يدري في أي طعامه البركة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1802 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1802
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی گرے ہوئے نوالہ پر جو گردوغبار جم گیا ہے،
اسے ہٹا کر اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے،
اسے کھالے،
شیطان کے لیے نہ چھوڑے کیوں کہ چھوڑنے سے اس نعمت کی ناقدری ہوگی،
لیکن اس کابھی لحاظ رہے کہ وہ نوالہ ایسی جگہ نہ گرا ہو جو ناپاک اور گندی ہو،
اگر ایسی بات ہے تو بہتر ہوگا کہ اسے صاف کرکے کسی جانور کو کھلادے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1802]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3270
(کھانے کے بعد) انگلیاں چاٹنے کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3270]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھانے کےبعد ہاتھ کی انگلیوں کو زبان سے صاف کر لینا چاہیے۔

(2)
غذا کا معمولی حصہ ضائع کرنا بھی نعمت کی ناشکری ہے۔

(3)
بغیر صاف کیے ہاتھ کو کپڑے سے پونچھنا یا پانی سے دھونا مناسب نہیں کیونکہ اس طرح کپڑا خراب ہو گا یا پانی ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا پڑے گا اور ہاتھ کو لگے ہوئے غذا کے ذرات نانی میں جائیں گے جو رزق کی نعمت کی ناقدری ہے۔

(4)
برکت ایک معنوی اور غیر محسوس چیز ہے۔
اس کے حصوں کےلیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور رزق کو ضائع کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

(5)
کسی سے چٹوانا اس وقت درست ہے جب دوسرا آدمی اس میں کراہت محسوس نہ کرے مثلاً:
بیوی یا اولاد وغیرہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3270]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5301
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس کو اٹھائے اور اس کو لگنے والی تکلیف دہ چیز (مٹی، ریت اور تنکے وغیرہ) دور کر کے اس کو کھالے اور جب تک اپنی چاٹ نہ لے، اپنا ہاتھ رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے، اس کے کھانے کے کس حصہ میں خیر و برکت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5301]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب انسان کھانا شروع کر دیتا ہے تو اس کا اکثر حصہ اس کے پیٹ میں چلا جاتا ہے،
کچھ برتن کو لگ جاتا ہے،
کچھ انگلیوں کو لگ جاتا ہے،
بعض دفعہ کچھ برتن میں رہ جاتا ہے اور کوئی لقمہ گر جاتا ہے،
اب انسان کو معلوم نہیں ہے،
کھانے کے ان سب اجزاء میں سے کون سا حصہ یا جز اس کے لیے خیر و برکت اور سیری کا باعث ہے اور اس کے لیے وقت و طاقت کا سبب ہے،
اس لیے اسے ان تمام اجزاء کو استعمال کرنا چاہیے،
کوئی حصہ چھوڑنا نہیں چاہیے،
حتی کہ گرنے والا لقمہ بھی اسی طرح گرے پڑے نہیں رہنا دینا چاہیے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے برتن میں اتنا ہی کھانا ڈالنا چاہیے جتنا کھانا ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5301]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5303
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: شیطان تمہارے ہر معاملہ کے وقت آجاتا ہے، حتی کہ وہ تمہارے کھانے کے وقت بھی آ جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کسی سے کوئی لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت کا باعث چیز زائل کرکے اس کو کھالے، اس کو شیطان کے لیے نہ پڑا رہنے دے اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے علم نہیں ہے اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5303]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان ہر وقت اور ہر آن انسان کی تاک میں رہتا ہے،
وہ جب بھی کوئی کام شروع کرتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے،
میرا بھی اس کام میں کچھ حصہ پڑ جائے،
اس لیے وہ اکسا کر اس سے کوئی نہ کوئی کام دینی ہدایات و تعلیمات کا منافی کروا لیتا ہے،
جس طرح گرنے والا لقمہ کو اٹھانا وہ اسے اپنی شان کے منافی باور کرواتا ہے اور اس کو خست و کمینگی بتاتا ہے،
اس طرح انسان اس کے چکمے میں آ کر لقمہ اس کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ شیطان کا داؤ چل گیا ہے،
ہاں اگر لقمہ ناپاک جگہ میں گر جائے یا اس کو صاف کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اسے بلی،
کتے کو ڈال دے،
اس کو ضائع نہ کرے،
کیونکہ شریعت کسی معمولی چیز کا ضیاع بھی گوارا نہیں کرتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5303]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1802 in Urdu