پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء في لعق الأصابع بعد الأكل
باب: کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنَ الْمُخْتَلِفِ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس انگلی میں برکت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عبدالعزیز کی یہ حدیث، مختلف کے قبیل سے ہے، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے،
۳- اس باب میں جابر، کعب بن مالک اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ہم اسے اس سند سے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1801]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عبدالعزیز کی یہ حدیث، مختلف کے قبیل سے ہے، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے،
۳- اس باب میں جابر، کعب بن مالک اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ہم اسے اس سند سے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 18 (2034)، (تحفة الأشراف: 12727)، و مسند احمد (2/340، 415) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ برکت اس میں تھی جسے وہ کھا چکا یا اس میں ہے جو اس کی انگلیوں میں لگا ہوا ہے، یا اس میں ہے جو کھانے کے برتن میں باقی رہ گیا ہے، اس لیے کھاتے وقت کھانے والے کو ان سب کا خیال رکھنا ہے، تاکہ اس برکت سے جو کھانے میں اللہ نے رکھی ہے محروم نہ رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الروض النضير (19)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1801
| إذا أكل أحدكم فليلعق أصابعه لا يدري في أيتهن البركة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1801 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1801
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ برکت اس میں تھی جسے وہ کھاچکا یا اس میں ہے جو اس کی انگلیوں میں لگاہوا ہے،
یا اس میں ہے جوکھانے کے برتن میں باقی رہ گیا ہے،
اس لیے کھاتے وقت کھانے والے کو ان سب کا خیال رکھنا ہے،
تاکہ اس برکت سے جو کھانے میں اللہ نے رکھی ہے محروم نہ رہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ برکت اس میں تھی جسے وہ کھاچکا یا اس میں ہے جو اس کی انگلیوں میں لگاہوا ہے،
یا اس میں ہے جوکھانے کے برتن میں باقی رہ گیا ہے،
اس لیے کھاتے وقت کھانے والے کو ان سب کا خیال رکھنا ہے،
تاکہ اس برکت سے جو کھانے میں اللہ نے رکھی ہے محروم نہ رہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1801]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1801 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي