یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب النهى عن ضرب الخدم وشتمهم
باب: خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1947
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيُّ التَّوْبَةِ: " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ أَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ، يُكْنَى أَبَا الْحَكَمِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ۱؎ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں سوید بن مقرن اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1947]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں سوید بن مقرن اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 45 (6858)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور 9 (1660)، سنن ابی داود/ الأدب 133 (5165) (تحفة الأشراف: 13624)، و مسند احمد (2/431) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سو مرتبہ استغفار کرتے تھے، اسی لحاظ سے آپ کو «نبي التوبة» کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الروض النضير (1146)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي، أبو الحكم عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الفضيل بن غزوان الضبي، أبو الفضل الفضيل بن غزوان الضبي ← عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← الفضيل بن غزوان الضبي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥أحمد بن محمد المروزي، أبو العباس أحمد بن محمد المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6858
| من قذف مملوكه وهو بريء مما قال جلد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال |
صحيح مسلم |
4311
| من قذف مملوكه بالزنا يقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال |
جامع الترمذي |
1947
| من قذف مملوكه بريئا مما قال له أقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال |
سنن أبي داود |
5165
| من قذف مملوكه وهو بريء مما قال جلد له يوم القيامة حدا |
المعجم الصغير للطبراني |
919
| من قذف مملوكه بالزنا أقيم عليه الحد يوم القيامة |
بلوغ المرام |
1052
| من قذف مملوكه يقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1947 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1947
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سومرتبہ استغفار کرتے تھے،
اسی لحاظ سے آپ کو ”نبي التوبة“ کہاگیا۔
وضاحت:
1؎:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سومرتبہ استغفار کرتے تھے،
اسی لحاظ سے آپ کو ”نبي التوبة“ کہاگیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1947]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1052
تہمت زنا کی حد کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جو شخص اپنی مملوک پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی۔ الایہ کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح کہ اس نے کہا ہے (یعنی وہ تہمت سچی ہو)۔“ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1052»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جو شخص اپنی مملوک پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی۔ الایہ کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح کہ اس نے کہا ہے (یعنی وہ تہمت سچی ہو)۔“ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1052»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحدود، باب قذف العبيد، حديث:6858، ومسلم، الأيمان، باب التغليظ علي من قذف مملوكه بالزني، حديث:1660.» تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو مالک اپنے غلام پر تہمت لگاتا ہے تو دنیا میں اس پر کوئی حد نہیں ہے‘ اسے قیامت کے روز اللہ رب العالمین ہی سزا دے گا۔
اور اگر تہمت سچی ہوگی تو پھر مالک بری ٔالذمہ ہوگا اور غلام کو جرم کی سزا دی جائے گی۔
«أخرجه البخاري، الحدود، باب قذف العبيد، حديث:6858، ومسلم، الأيمان، باب التغليظ علي من قذف مملوكه بالزني، حديث:1660.»
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو مالک اپنے غلام پر تہمت لگاتا ہے تو دنیا میں اس پر کوئی حد نہیں ہے‘ اسے قیامت کے روز اللہ رب العالمین ہی سزا دے گا۔
اور اگر تہمت سچی ہوگی تو پھر مالک بری ٔالذمہ ہوگا اور غلام کو جرم کی سزا دی جائے گی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1052]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5165
غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5165]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5165]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت نبي التوبة ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس اُمت کی توبہ ندامت اور الفاظ سے قبول کرلی جاتی ہے۔
جبکہ سابقہ امتوں میں بعض اوقات اپنے آپ کو قتل کرنے سے قبول ہوتی تھی۔
ایک معنی یہ بھی لکھے گئے ہیں۔
کہ اس سے مراد ایمان وعمل ہے۔
جبکہ انسان نے کفر وفسق سے رجوع کیا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت نبي التوبة ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس اُمت کی توبہ ندامت اور الفاظ سے قبول کرلی جاتی ہے۔
جبکہ سابقہ امتوں میں بعض اوقات اپنے آپ کو قتل کرنے سے قبول ہوتی تھی۔
ایک معنی یہ بھی لکھے گئے ہیں۔
کہ اس سے مراد ایمان وعمل ہے۔
جبکہ انسان نے کفر وفسق سے رجوع کیا ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5165]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4311
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام پر زنا کا الزام عائد کیا، اس پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی، الا یہ کہ اس نے جو کچھ کہا، ویسا ہی تھا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4311]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر کوئی آقا اپنے غلام پر زنا کی تہمت عائد کرتا ہے،
حالانکہ اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے،
تو اس کی آزادی کے شرف و احترام کی خاطر،
بالاتفاق دنیا میں اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی،
چاہے وہ مکمل طور پر غلام ہو یا مکاتب،
مدبر اور ام الولد ہو،
ہاں قیامت کے دن،
وہ حد کا مستوجب ہو گا،
لیکن اگر دوسرے کی ام الولد پر تہمت لگاتا ہے،
تو پھر حضرت ابن عمر،
حسن بصری،
اور اہل ظاہر کے نزدیک اس پر حد قائم کی جائے،
اگر اپنی ام ولد پر تہمت لگاتا ہے،
تو پھر حسن بصری کا موقف بھی یہی ہے کہ اس پر حد نہیں،
اس طرح دوسرے کے غلام پر الزام تراشی میں بھی حد نہیں ہے،
تعزیر و توبیخ ہے،
آخرت میں مؤاخذہ ہو گا۔
فوائد ومسائل:
اگر کوئی آقا اپنے غلام پر زنا کی تہمت عائد کرتا ہے،
حالانکہ اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے،
تو اس کی آزادی کے شرف و احترام کی خاطر،
بالاتفاق دنیا میں اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی،
چاہے وہ مکمل طور پر غلام ہو یا مکاتب،
مدبر اور ام الولد ہو،
ہاں قیامت کے دن،
وہ حد کا مستوجب ہو گا،
لیکن اگر دوسرے کی ام الولد پر تہمت لگاتا ہے،
تو پھر حضرت ابن عمر،
حسن بصری،
اور اہل ظاہر کے نزدیک اس پر حد قائم کی جائے،
اگر اپنی ام ولد پر تہمت لگاتا ہے،
تو پھر حسن بصری کا موقف بھی یہی ہے کہ اس پر حد نہیں،
اس طرح دوسرے کے غلام پر الزام تراشی میں بھی حد نہیں ہے،
تعزیر و توبیخ ہے،
آخرت میں مؤاخذہ ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4311]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6858
6858. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”آپ فرما رہے تھے: جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی جبکہ وہ اس تہمت سے بری ہو تو اسے قیامت کے دن کوڑے مارے جائیں گے ہاں، اگر غلام ایسا ہو جیسا اس نے کہا تو سزا نہیں ہوگی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6858]
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے:
جمہور اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ آزاد آدمی جب غلام پر تہمت لگائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ حدیث میں ہے کہ تہمت لگانے والے کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور کوڑے مارے جائیں گے۔
اگر دنیا میں اس پر حد لاگو ہوتی تو حدیث میں اس کا ضرور ذکر کیا جاتا جیسا کہ آخرت کی سزا کا ذکر ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے کیونکہ حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام ولد پر تہمت لگانے پر حد جاری کرنے کے قائل ہیں۔
(فتح الباري: 229/12)
(1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے:
جمہور اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ آزاد آدمی جب غلام پر تہمت لگائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ حدیث میں ہے کہ تہمت لگانے والے کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور کوڑے مارے جائیں گے۔
اگر دنیا میں اس پر حد لاگو ہوتی تو حدیث میں اس کا ضرور ذکر کیا جاتا جیسا کہ آخرت کی سزا کا ذکر ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے کیونکہ حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام ولد پر تہمت لگانے پر حد جاری کرنے کے قائل ہیں۔
(فتح الباري: 229/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6858]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1947 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ← أبو هريرة الدوسي