🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب ما جاء لا يرد القدر إلا الدعاء
باب: صرف دعا ہی تقدیر ٹال سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ سَلْمَانَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الضُّرَيْسِ، وَأَبُو مَوْدُودٍ اثْنَانِ: أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ فِضَّةٌ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ اسْمُهُ فِضَّةٌ بَصْرِيٌّ، وَالْآخَرُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَحَدُهُمَا بَصْرِيٌّ، وَالْآخَرُ مَدَنِيٌّ، وَكَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ.
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹالتی ہے ۱؎ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی ہے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث سلمان کی روایت سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابواسید سے بھی روایت ہے،
۳- ہم اسے صرف یحییٰ بن ضریس کی روایت سے جانتے ہیں،
۴- ابومودود دو راویوں کی کنیت ہے، ایک کو فضہ کہا جاتا ہے، اور یہ وہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے، ان کا نام فضہ ہے اور دوسرے ابومودود کا نام عبدالعزیز بن ابوسلیمان ہے، ان میں سے ایک بصرہ کے رہنے والے ہیں اور دوسرے مدینہ کے، دونوں ایک ہی دور میں تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ مؤالف (تحفة الأشراف: 4502) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: «قضاء» سے مراد امر مقدر ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے: مفہوم یہ ہے کہ بلا و مصیبت کے ٹالنے میں دعا بےحد موثر ہے، یہاں تک کہ اگر قضاء کا کسی چیز سے لوٹ جانا ممکن ہوتا تو وہ دعا ہوتی، جب کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے: مراد یہ ہے کہ دعا سے قضاء کا سہل و آسان ہو جانا ہے گویا دعا کرنے والے کو یہ احساس ہو گا کہ قضاء نازل ہی نہیں ہوئی، اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں دعا جو کچھ قضاء نازل ہو چکی ہے اس کے لیے اور جو نازل نہیں ہوئی ہے اس کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔
۲؎: عمر میں اضافہ اگر حقیقت کے اعتبار سے ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اضافہ اس فرشتہ کے علم کے مطابق ہے جو انسان کے عمر پر مقرر ہے، نہ کہ اللہ کے علم کی طرف نسبت کے اعتبار سے ہے، مثلاً لوح محفوظ میں اگر یہ درج ہے کہ فلاں کی عمر اس کے حج اور عمرہ کرنے کی صورت میں ساٹھ سال کی ہو گی اور حج و عمرہ نہ کرنے کی صورت میں چالیس سال کی ہو گی تو یہ اللہ کے علم میں ہے کہ وہ حج و عمرہ کرے گا یا نہیں، اور علم الٰہی میں رد و بدل اور تغیر نہیں ہو سکتا جب کہ فرشتے کے علم میں جو ہے اس میں تبدیلی کا امکان ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، الصحيحة (154)
قال الشيخ زبير على زئي:(2139) إسناده ضعيف
سيلمان التيمي عنعن (تقدم: 2035) وفي السند علة أخري وللحديث شاھد ضعيف عند ابن ماجه (90 ،4022)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمان الفارسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← سلمان الفارسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥فضة البصري، أبو مودود
Newفضة البصري ← سليمان بن طرخان التيمي
مقبول
👤←👥يحيى بن الضريس البجلي، أبو زكريا
Newيحيى بن الضريس البجلي ← فضة البصري
ثقة
👤←👥سعيد بن يعقوب الطالقاني، أبو بكر
Newسعيد بن يعقوب الطالقاني ← يحيى بن الضريس البجلي
ثقة
👤←👥محمد بن حميد التميمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن حميد التميمي ← سعيد بن يعقوب الطالقاني
متروك الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2139
لا يرد القضاء إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2139 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2139
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
قضاء سے مراد امر مقدر ہے،
کچھ لوگوں کا کہنا ہے:
مفہوم یہ ہے کہ بلا و مصیبت کے ٹالنے میں دعا بے حد موثر ہے،
یہاں تک کہ اگر قضاء کا کسی چیز سے لوٹ جانا ممکن ہوتا تو وہ دعا ہوتی،
جب کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے:
مراد یہ ہے کہ دعا سے قضا کا سہل وآسان ہوجانا ہے گویا دعا کرنے والے کو یہ احساس ہوگا کہ قضا نازل ہی نہیں ہوئی،
اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں دعا جو کچھ قضا نازل ہوچکی ہے اس کے لیے اور جو نازل نہیں ہوئی ہے اس کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔

2؎:
عمر میں اضافہ اگر حقیقت کے اعتبار سے ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اضافہ اس فرشتہ کے علم کے مطابق ہے جو انسان کے عمر پر مقرر ہے،
نہ کہ اللہ کے علم کی طرف نسبت کے اعتبار سے ہے،
مثلا لوح محفوظ میں اگر یہ درج ہے کہ فلاں کی عمر اس کے حج اور عمرہ کرنے کی صورت میں ساٹھ سال کی ہوگی اور حج وعمرہ نہ کرنے کی صورت میں چالیس سال کی ہوگی تو یہ اللہ کے علم میں ہے کہ وہ حج و عمرہ کرے گا یا نہیں،
اورعلم الٰہی میں ردوبدل اور تغیر نہیں ہوسکتا جب کہ فرشتے کے علم میں جو ہے اس میں تبدیلی کا امکان ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2139]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2139 in Urdu