🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب ما جاء ستكون فتن كقطع الليل المظلم
باب: ان فتنوں کا بیان جو سخت تاریک رات کی طرح ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہو گا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 51 (118) (تحفة الأشراف: 14075) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہو گا، ہر ایک دنیا کا طالب ہو گا، لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا، یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کر بیٹھے گا، اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
313
بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا أو يمسي مؤمنا ويصبح كافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا
جامع الترمذي
2195
بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا يبيع أحدهم دينه بعرض من الدنيا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2195 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2195
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہوگا،
ہرایک دنیا کا طالب ہوگا،
لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی،
انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا،
یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کربیٹھے گا،
اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2195]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 313
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان فتنوں سے پہلے پہلےجو رات کے تاریک ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے۔ نیک اعمال کر لو، صبح کو آدمی مسلمان ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر، اپنا دین ایمان دنیوی سامان کےعوض بیچے ڈالے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:313]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
فِتَنٌ:
فِتْنَةٌ کی جمع ہے،
آزمائش و امتحان کی چیز۔
(2)
بَادِرُوْا:
جلدی کرو،
سبقت کرو۔
(3)
كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ:
تاریک رات کے ٹکڑے،
یعنی بکثرت فتنوں کا ظہور ہو گا۔
فوائد ومسائل:
(1)
انسان کو اپنی صحت وعافیت کے اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے چاہئیں،
معلوم نہیں حالات میں کب تبدیلی واقع ہوجائے اور نیکی کرنا مشکل ہوجائے۔
دنیوی مفادات ومنافع کو نظر انداز کر کے نیکی کرنا ممکن نہیں ہے۔
اور ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ دنیوی مفادات ومنافع کو نظر انداز کر دے۔
(2)
ایمان کی تباہی وبربادی کا باعث دنیوی مفادات واغراض ہیں،
جن کا اسیر ہو کر انسان اپنے ایمان سے محروم ہوسکتا ہے اور ان اغراض ومفادات کو قربان کرنا مشکل ہے،
جیسا کہ آج کل ہمارے معاشرہ کے حالات سے محسوس ہورہا ہے اور کامیابی وکامرانی اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ انسان دنیوی مفادات سے بلند ہر کر ہی کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 313]