🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب فيمن تكلم بكلمة يضحك بها الناس
باب: غیر شرعی طور پر ہنسنے ہنسانے کی بات کرنے والے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کبھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس میں وہ خود کوئی حرج نہیں سمجھتا حالانکہ اس کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جائے گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 23 (6477، 6478)، صحیح مسلم/الزہد 6 (2988) (تحفة الأشراف: 14283)، و مسند احمد (2/236، 355، 379) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک شخص دوسروں کو ہنسانے کے لیے اور ان کی دلچسپی کی خاطر اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے یا بناوٹی اور جھوٹی بات کہتا ہے، اور کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ باعث گناہ اور لائق سزا ہے حالانکہ وہ اپنی اس بات کے سبب جہنم کی سزا کا مستحق ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ دوسروں کو ہنسانے اور انہیں خوش کرنے کے لیے کوئی ایسی ہنسی کی بات نہیں کرنی چاہیئے جو گناہ کی بات ہو اور باعث عذاب ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (3970)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عيسى بن طلحة القرشي، أبو محمد
Newعيسى بن طلحة القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عيسى بن طلحة القرشي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن إبراهيم القرشي
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6477
العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين فيها يزل بها في النار أبعد مما بين المشرق
صحيح البخاري
6478
العبد ليتكلم بالكلمة من رضوان الله لا يلقي لها بالا يرفعه الله بها درجات العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالا يهوي بها في جهنم
صحيح مسلم
7482
العبد ليتكلم بالكلمة ينزل بها في النار أبعد ما بين المشرق والمغرب
صحيح مسلم
7482
العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين ما فيها يهوي بها في النار أبعد ما بين المشرق والمغرب
جامع الترمذي
2314
الرجل ليتكلم بالكلمة لا يرى بها بأسا يهوي بها سبعين خريفا في النار
سنن ابن ماجه
3970
الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يرى بها بأسا فيهوي بها في نار جهنم سبعين خريفا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2314 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2314
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایک شخص دوسروں کو ہنسانے کے لیے اور ان کی دلچسپی کی خاطراپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے یا بناوٹی اور جھوٹی بات کہتا ہے،
اور کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ باعث گناہ اور لا ئق سزا ہے حالانکہ وہ اپنی اس بات کے سبب جہنم کی سزاکا مستحق ہوتا ہے،
معلوم ہوا کہ دوسروں کو ہنسانے اورانہیں خوش کرنے کے لیے کوئی ایسی ہنسی کی بات نہیں کرنی چاہئے جو گناہ کی بات ہواور باعث عذاب ہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2314]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7482
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بندہ ایک ایساکلمہ بول دیتا ہے،جس کی حقیقت وگہرائی احاطہ پر غور نہیں کرتا،اس کے سبب وہ دوزخ میں اتنا نیچے گرجاتاہے کہ وہ فاصلہ مشرق ومغرب کے درمیان سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7482]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض دفعہ انسان بلا سوچے سمجھے کسی حکمران کی خوشامد میں کوئی بات کہہ دیتا ہے،
یا اس کے سامنے کسی مسلمان کے بارے میں کوئی بات کہہ دیتا ہے،
جس سے حکمران کو اس کے قتل کا بہانا مل جاتا ہے،
یا بدگوئی اور فحش کلامی کرتاہے،
یا بلا سوچے سمجھے ہنسی مذاق میں کسی دینی حکم پر طعن کردیتا ہے،
اس کا مذاق اڑاتا ہے،
تو یہ چیزیں اس کی تباہی و بربادی کا باعث بن جاتی ہے،
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے اور خاموشی کو نجات قرار دیاہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7482]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7482
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بندہ ایک ایساکلمہ بول دیتا ہے،جس کی حقیقت وگہرائی احاطہ پر غور نہیں کرتا،اس کے سبب وہ دوزخ میں اتنا نیچے گرجاتاہے کہ وہ فاصلہ مشرق ومغرب کے درمیان سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7482]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض دفعہ انسان بلا سوچے سمجھے کسی حکمران کی خوشامد میں کوئی بات کہہ دیتا ہے،
یا اس کے سامنے کسی مسلمان کے بارے میں کوئی بات کہہ دیتا ہے،
جس سے حکمران کو اس کے قتل کا بہانا مل جاتا ہے،
یا بدگوئی اور فحش کلامی کرتاہے،
یا بلا سوچے سمجھے ہنسی مذاق میں کسی دینی حکم پر طعن کردیتا ہے،
اس کا مذاق اڑاتا ہے،
تو یہ چیزیں اس کی تباہی و بربادی کا باعث بن جاتی ہے،
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے اور خاموشی کو نجات قرار دیاہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7482]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6478
6478. حضرت ابو ہریرہ ہی سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بے شک بندہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے بات منہ سے نکالتا ہے، اسے وہ کچھ اہمیت بھی نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے اللہ اس کے درجات بلند کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضی کا باعث ہوتا ہے اس کے ہاں اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم چلاجاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6478]
حدیث حاشیہ:
بعض اوقات انسان ایسی گفتگو کرتا ہے اور اس پر مرتب ہونے والے، نتائج پر غور نہیں کرتا تو اس کی پاداش میں وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اس لیے شریعت میں زبان کے استعمال کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔
حدیث میں ہے:
جب آدمی صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء زبان کی منت سماجت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ ہم تیرے ہی رحم و کرم پر ہیں اگر تو ٹھیک رہی تو ہم بھی ٹھیک رہیں گے اگر تو نے غلط روی اختیار کی تو ہم بھی بھٹک جائیں گے۔
(جامع الترمذي:
الزھد، حدیث: 2407)
ایک دوسری حدیث میں دل کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ انسانی اعضاء کے درست رہنے کا دارومدار اس کے دل پر موقوف ہے۔
ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ اصل حیثیت تو دل ہی کی ہے لیکن ظاہری اعضاء میں چونکہ زبان اس کی ترجمان ہے، اس لیے دونوں کی مذکورہ نوعیت بیان کی گئی ہے۔
اگر یہ دونوں ٹھیک ہیں تو خیریت بصورت دیگر انسان کی خیریت نہیں ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6478]