سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء مثل الدنيا مثل أربعة نفر
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 2325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ سَعِيدٍ الطَّائِيِّ أَبِي الْبَخْتَرِيّ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ الْأَنَّمَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ثَلَاثَةٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، قَالَ: " مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلَمَةً فَصَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، قَالَ: إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں اور میں تم لوگوں سے ایک بات بیان کر رہا ہوں جسے یاد رکھو“، ”کسی بندے کے مال میں صدقہ دینے سے کوئی کمی نہیں آتی (یہ پہلی بات ہے)، اور کسی بندے پر کسی قسم کا ظلم ہو اور اس پر وہ صبر کرے تو اللہ اس کی عزت کو بڑھا دیتا ہے (دوسری بات ہے)، اور اگر کوئی شخص پہنے کے لیے سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ اس کے لیے فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔ (یا اسی کے ہم معنی آپ نے کوئی اور کلمہ کہا) (یہ تیسری بات ہے) اور تم لوگوں سے ایک اور بات بیان کر رہا ہوں اسے بھی اچھی طرح یاد رکھو: ”یہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے: ایک بندہ وہ ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال اور علم کی دولت دی، وہ اپنے رب سے اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں ڈرتا ہے اور اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے ۱؎ اور اس میں سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھتا ہے ۲؎ ایسے بندے کا درجہ سب درجوں سے بہتر ہے۔ اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے علم دیا، لیکن مال و دولت سے اسے محروم رکھا پھر بھی اس کی نیت سچی ہے اور وہ کہتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس شخص کی طرح عمل کرتا لہٰذا اسے اس کی سچی نیت کی وجہ سے پہلے شخص کی طرح اجر برابر ملے گا، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا لیکن اسی علم سے محروم رکھا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا ہے، نہ ہی صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اس مال میں اللہ کے حق کا خیال رکھتا ہے تو ایسے شخص کا درجہ سب درجوں سے بدتر ہے، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت اور علم دونوں سے محروم رکھا، وہ کہتا ہے کاش میرے پاس مال ہوتا تو فلاں کی طرح میں بھی عمل کرتا (یعنی: برے کاموں میں مال خرچ کرتا) تو اس کی نیت کا وبال اسے ملے گا اور دونوں کا عذاب اور بار گناہ برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2325]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وأخرج ابن ماجہ نحوہ في الزہد 26 (4228) (تحفة الأشراف: 12145) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کرتا ہے اور اعزہ و اقرباء کا خاص خیال رکھتا ہے۔ ۲؎: یعنی فریضہ زکاۃ کی ادائیگی کرتا ہے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے جو کچھ اس پر واجب ہوتا ہے خرچ کرتا ہے اور اس میں سے عام صدقات و خیرات بھی کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4228)
قال الشيخ زبير على زئي:(2325) إسناده ضعيف
يونس بن خباب رافضي ضعيف ، ضعفه الجمھور وروي أحمد (230/4 ح 27 180) حديثاً آخر بمتن آخر و ظاھره الصحة ولكن أعله ابن حجر وغيره . والله أعلم، وحديث ابن ماجه (4228 صحيح ) يغني عنه
يونس بن خباب رافضي ضعيف ، ضعفه الجمھور وروي أحمد (230/4 ح 27 180) حديثاً آخر بمتن آخر و ظاھره الصحة ولكن أعله ابن حجر وغيره . والله أعلم، وحديث ابن ماجه (4228 صحيح ) يغني عنه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن عمرو الأنماري، أبو كبشة | صحابي | |
👤←👥سعيد بن أبي عمران الطائي، أبو البختري سعيد بن أبي عمران الطائي ← سعيد بن عمرو الأنماري | ثقة ثبت فيه تشيع قليل | |
👤←👥يونس بن خباب الأسيدي، أبو حمزة، أبو الجهم يونس بن خباب الأسيدي ← سعيد بن أبي عمران الطائي | كذاب | |
👤←👥عبادة بن مسلم الفزاري، أبو يحيى عبادة بن مسلم الفزاري ← يونس بن خباب الأسيدي | ثقة | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← عبادة بن مسلم الفزاري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن إسماعيل البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري ← الفضل بن دكين الملائي | جبل الحفظ وإمام الدنيا في فقه الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2325
| الدنيا لأربعة نفر عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل فيه رحمه ويعلم لله فيه حقا فهذا بأفضل المنازل عبد رزقه الله علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية يقول لو أن لي مالا لعملت بعمل فلان فهو بنيته فأجرهما سواء عبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما فهو |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2325
| ما نقص مال عبد من صدقة لا ظلم عبد مظلمة فصبر عليها إلا زاده الله عزا لا فتح عبد باب مسألة إلا فتح الله عليه باب فقر |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2325 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2325
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کرتاہے اور اعزاء واقرباء کا خاص خیال رکھتاہے۔
2؎:
یعنی فریضہ زکاۃ کی ادائیگی کرتا ہے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے جوکچھ اس پر واجب ہوتا ہے خرچ کرتا ہے اور اس میں سے عام صدقات وخیرات بھی کرتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کرتاہے اور اعزاء واقرباء کا خاص خیال رکھتاہے۔
2؎:
یعنی فریضہ زکاۃ کی ادائیگی کرتا ہے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے جوکچھ اس پر واجب ہوتا ہے خرچ کرتا ہے اور اس میں سے عام صدقات وخیرات بھی کرتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2325]
سعيد بن أبي عمران الطائي ← سعيد بن عمرو الأنماري