🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب ما جاء في الهم في الدنيا وحبها
باب: دنیا سے محبت اور اس کے غم و فکر میں رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، وَمَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِاللَّهِ فَيُوشِكُ اللَّهُ لَهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ أَوْ آجِلٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فاقہ کا شکار ہو اور اس پر صبر نہ کر کے لوگوں سے بیان کرتا پھرے ۱؎ تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو فاقہ کا شکار ہو اور اسے اللہ کے حوالے کر کے اس پر صبر سے کام لے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیر یا سویر روزی دے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الزکاة 29 (1645) (تحفة الأشراف: 9319)، و مسند احمد (1/389) (صحیح) ”بموت عاجل أو غني عاجل“) کے لفظ سے صحیح ہے، صحیح سنن ابی داود 1452، الصحیحة 2887)»
وضاحت: ۱؎: یعنی لوگوں سے اپنی محتاجی اور لاچاری کا تذکرہ کر کے ان کے آگے ہاتھ پھیلائے تو ایسے شخص کی ضرورت کبھی پوری نہیں ہو گی، اور اگر وقتی طور پر پوری ہو بھی گئی تو پھر اس سے زیادہ سخت دوسری ضرورتیں اس کے سامنے آئیں گی جن سے نمٹنا اس کے لیے آسان نہ ہو گا۔
۲؎: چونکہ اس نے صبر سے کام لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں رزق عطا فرمائے گا، یا آخرت میں اسے ثواب سے نوازے گا، معلوم ہوا کہ حاجت و ضرورت کے وقت انسانوں کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ: " ... بموت عاجل أو غنى عاجل "، صحيح أبي داود (1452) ، الصحيحة (2787)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله
Newطارق بن شهاب البجلي ← عبد الله بن مسعود
له رؤية
👤←👥سيار الكوفي، أبو حمزة
Newسيار الكوفي ← طارق بن شهاب البجلي
مقبول
👤←👥بشير بن سلمان النهدي، أبو إسماعيل
Newبشير بن سلمان النهدي ← سيار الكوفي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← بشير بن سلمان النهدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2326
من نزلت به فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته من نزلت به فاقة فأنزلها بالله فيوشك الله له برزق عاجل أو آجل
سنن أبي داود
1645
من أصابته فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته من أنزلها بالله أوشك الله له بالغنى إما بموت عاجل أو غنى عاجل
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2326 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2326
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی لوگوں سے اپنی محتاجی اورلاچاری کا تذکرہ کرکے ان کے آگے ہاتھ پھیلائے تو ایسے شخص کی ضرورت کبھی پوری نہیں ہوگی،
اور اگروقتی طورپر پوری ہوبھی گئی تو پھر اس سے زیادہ سخت دوسری ضرورتیں اس کے سامنے آئیں گی جن سے نمٹنا اس کے لیے آسان نہ ہوگا۔

2؎:
چونکہ اس نے صبر سے کام لیا،
اس لیے اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں رزق عطا فرمائے گا،
یا آخرت میں اسے ثواب سے نوازے گا،
معلوم ہوا کہ حاجت وضرورت کے وقت انسانوں کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

نوٹ:

 (بموت عاجل أو غني عاجل) کے لفظ سے صحیح ہے،
صحیح سنن أبي داؤد 1452،
الصحیحة: 2887)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2326]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1645
سوال سے بچنے کا بیان۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے (یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1645]
1645. اردو حاشیہ: مومن کو اپنی ضروریات اور مشکلات ااسی ذات کے سامنے پیش کرنی چاہیں۔ جو کسی کی محتاج نہیں۔ اور ہر اعتبار سے الغنی اور المغنی ہے۔لوگ کہاں تک کسی کی دستگیری کرسکتے ہیں۔آج ایک حاجت ہے تو کل دوسری سامنے ہے۔اس لئے ہمیشہ اللہ ہی سے سوال کرنا چاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں زندگی کے ادنیٰ واعلیٰ تمام امور سے متعلق دعایئں موجود ہیں۔ان کو اپنا حرز جان اور ورد ایام بنا لینا چاہیے۔عزیمت یہی ہے کہ انسان کسی سے کچھ نہ مانگے جیسے کہ تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسیرت صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کا اوپر زکر آیا ہے۔تاہم دنیا دارلاسباب ہے۔عام ضروریات کا لوگوں سے طلب کرلینا مباح ہے۔اور جو امور ظاہری اسباب سے بالا ہیں۔ان کا سوال صرف اللہ ہی سے کرنا چاہیے۔ان کا غیراللہ سے سوال کرنا شرک ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1645]