سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب ما جاء أن فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل أغنيائهم
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يَوْمٍ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقراء جنت میں مالداروں سے پانچ سو برس پہلے داخل ہوں گے اور یہ قیامت کے آدھا دن کے برابر ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2353]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 6 (4122) (تحفة الأشراف: 15029) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں پانچ سو سال کا ذکر ہے، جب کہ اس سے پہلے والی حدیث میں چالیس سال کا ذکر ہے، مدت میں فرق فقراء کے درجات و مراتب میں فرق کے لحاظ سے ہے، معلوم ہوا کہ کچھ فقراء اپنے مراتب و درجات کے لحاظ سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے جب کہ کچھ فقراء چالیس سال پہلے جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (4122)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن عمرو الليثي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر قبيصة بن عقبة السوائي ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← قبيصة بن عقبة السوائي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2355
| يدخل فقراء المسلمين الجنة قبل أغنيائهم بنصف يوم وهو خمس مائة عام |
جامع الترمذي |
2353
| يدخل الفقراء الجنة قبل الأغنياء بخمس مائة عام نصف يوم |
سنن ابن ماجه |
4122
| يدخل فقراء المؤمنين الجنة قبل الأغنياء بنصف يوم خمس مائة عام |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2353 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2353
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں پانچ سوسال کا ذکرہے،
جب کہ اس سے پہلے والی حدیث میں چالیس سال کا ذکرہے،
مدت میں فرق فقراء کے درجات ومراتب میں فرق کے لحاظ سے ہے،
معلوم ہوا کہ کچھ فقراء اپنے مراتب ودرجات کے لحاظ سے پانچ سوسال پہلے جنت میں جائیں گے جب کہ کچھ فقراء چالیس سال پہلے جائیں گے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں پانچ سوسال کا ذکرہے،
جب کہ اس سے پہلے والی حدیث میں چالیس سال کا ذکرہے،
مدت میں فرق فقراء کے درجات ومراتب میں فرق کے لحاظ سے ہے،
معلوم ہوا کہ کچھ فقراء اپنے مراتب ودرجات کے لحاظ سے پانچ سوسال پہلے جنت میں جائیں گے جب کہ کچھ فقراء چالیس سال پہلے جائیں گے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2353]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4122
فقراء کا مقام و مرتبہ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں میں سے محتاج اور غریب لوگ مالداروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن (دنیا کے) پانچ سو سال کے برابر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4122]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں میں سے محتاج اور غریب لوگ مالداروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن (دنیا کے) پانچ سو سال کے برابر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4122]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کے ہاں ہزار سال کی مدت ایک دن کے برابر ہے۔ (سورہ حج: 47)
اس لیے دولت مندوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جانے کا مطلب دنیا کے حساب سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہونا ہے۔
(2)
پہلے جنت میں جانا ان کے بلند درجات کوظاہر کرتا ہےاور انھیں محشر کی مشکلات بھی کم برداشت کرنی پڑیں گی۔
(3)
اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دولت مندوں کو اپنی زیادہ دولت کی آمد وخرچ کا حساب دینا پڑے گا جس میں کافی وقت صرف ہوگا جب کہ غریب لوگ اپنی تھوڑی کمائی کے حساب سے تھوڑی دیر میں فارغ ہوجائیں گے۔
(4)
دنیا میں دولت کم ملنا یا نہ ملنا بھی اللہ کی ایک نعمت ہے لیکن اس کے ساتھ صبر ضروری ہے جس طرح زیادہ دولت کے ساتھ شکر ضروری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کے ہاں ہزار سال کی مدت ایک دن کے برابر ہے۔ (سورہ حج: 47)
اس لیے دولت مندوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جانے کا مطلب دنیا کے حساب سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہونا ہے۔
(2)
پہلے جنت میں جانا ان کے بلند درجات کوظاہر کرتا ہےاور انھیں محشر کی مشکلات بھی کم برداشت کرنی پڑیں گی۔
(3)
اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دولت مندوں کو اپنی زیادہ دولت کی آمد وخرچ کا حساب دینا پڑے گا جس میں کافی وقت صرف ہوگا جب کہ غریب لوگ اپنی تھوڑی کمائی کے حساب سے تھوڑی دیر میں فارغ ہوجائیں گے۔
(4)
دنیا میں دولت کم ملنا یا نہ ملنا بھی اللہ کی ایک نعمت ہے لیکن اس کے ساتھ صبر ضروری ہے جس طرح زیادہ دولت کے ساتھ شکر ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4122]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2355
مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2355]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2355]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(فقراء المہاجرین کے لفظ سے صحیح ہے)
نوٹ:
(فقراء المہاجرین کے لفظ سے صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2355]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي