🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب ما يقول عند افتتاح الصلاة
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَارِثَةُ قَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَأَبُو الرِّجَالِ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 122 (776)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 1 (806)، (تحفة الأشراف: 17885)، وکذا: 16041) (صحیح) (حارثہ بن ابی الرجال ضعیف ہیں، جیسا کہ خود مؤلف نے کلام کیا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (806)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥حارثة بن أبي الرجال الأنصاري
Newحارثة بن أبي الرجال الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← حارثة بن أبي الرجال الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا
Newيحيى بن موسى الحداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
👤←👥الحسن بن عرفة العبدي، أبو علي
Newالحسن بن عرفة العبدي ← يحيى بن موسى الحداني
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
243
سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك و جدك ولا إله غيرك
سنن أبي داود
776
إذا استفتح الصلاة قال سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك و جدك ولا إله غيرك
سنن ابن ماجه
806
سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك و جدك ولا إله غيرك
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 243 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 243
اردو حاشہ:
نوٹ:
(حارثہ بن ابی الرجال ضعیف ہیں،
جیسا کہ خود مؤلف نے کلام کیا ہے،
لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 243]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 776
«سبحانك اللهم وبحمدك» سے نماز شروع کرنے والوں کی دلیل کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالسلام بن حرب سے مروی یہ حدیث مشہور نہیں ہے کیونکہ اسے عبدالسلام سے طلق بن غنام کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور نماز کا قصہ بدیل سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا (یعنی: افتتاح کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی بابت)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 776]
776۔ اردو حاشیہ:
علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح اسانید سے ثابت اذکار کا اختیار کرنا ہی اولیٰ اور افضل ہے۔ افتتاح نماز کی دعاؤں میں سب سے صحیح ترین حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: «يعني اللهم باعد بيني و بين . . .» [صحيح بخاري حديث 744۔ وصحيح مسلم حديث 598] اس کے بعد حدیث علی رضی اللہ عنہ یعنی «وجهت وجهي للذي فطر السموات . . . الخ» اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابوسعید رضی اللہ عنہ یعنی «سبحانك اللهم . . . الخ» میں کلام ہے۔ [نيل الاوطار 215/2۔ تا 219]
لیکن امام شوکانی رحمہ اللہ نے اگلے باب میں اس حدیث کو بھی شواہد کی وجہ سے قابل عمل قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں ہمارے محقق (شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ) نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔
اس لئے اس دعائے استفتاح کا پڑھنا بھی صحیح ہے، گو درجات حدیث میں اس کا نمبر تیسرا ہے، لیکن یہ بھی صحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 776]