🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب منه
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2458
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ " قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا لَنَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ: " لَيْسَ ذَاكَ وَلَكِنَّ الِاسْتِحْيَاءَ مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى، وَتَحْفَظَ الْبَطْنَ وَمَا حَوَى، وَتَتَذَكَّرَ الْمَوْتَ وَالْبِلَى، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاء کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیاء کرنے کا حق ہے ۱؎، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: حیاء کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاء کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ۲؎، اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ۳؎، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی جیسا کہ اس سے حیاء کرنے کا حق ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے۔
۲- اس حدیث کو اس سند سے ہم صرف ابان بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اور انہوں نے صباح بن محمد سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9553) (حسن) (صحیح الترغیب 3337، 1638، 1725، 1724)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ سے پورا پورا ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
۲؎: یعنی اپنا سر غیر اللہ کے سامنے مت جھکانا، نہ ریاکاری کے ساتھ عبادت کرنا، اور نہ ہی اپنی زبان، آنکھ اور کان کا غلط استعمال کرنا۔
۳؎: یعنی حرام کمائی سے اپنا پیٹ مت بھرو، اسی طرح شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں اور دل کی اس طرح حفاظت کرو، کہ ان سے غلط کام نہ ہونے پائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، الروض النضير (601) ، المشكاة (1608 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبير على زئي:(2458) إسناده ضعيف
صباح بن محمد ضعيف (تق:2898) وللحديث شواهد ضعيفة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مرة الطيب، أبو إسماعيل
Newمرة الطيب ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥صباح بن محمد الأحمسي
Newصباح بن محمد الأحمسي ← مرة الطيب
ضعيف الحديث
👤←👥أبان بن إسحاق الأسدي
Newأبان بن إسحاق الأسدي ← صباح بن محمد الأحمسي
ثقة
👤←👥محمد بن عبيد الطنافسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبيد الطنافسي ← أبان بن إسحاق الأسدي
ثقة يحفظ
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا
Newيحيى بن موسى الحداني ← محمد بن عبيد الطنافسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2458
استحيوا من الله حق الحياء الاستحياء من الله حق الحياء أن تحفظ الرأس وما وعى تحفظ البطن وما حوى تتذكر الموت والبلى من أراد الآخرة ترك زينة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحيا من الله حق الحياء
المعجم الصغير للطبراني
693
استحيوا من الله حق الحياء من استحيا من الله حق الحياء فليحفظ الرأس وما وعى البطن وما حوى يذكر الموت والبلاء من أراد الآخرة ترك زينة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحيا من الله حق الحياء
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2458 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2458
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اللہ سے پورا پورا ڈرو،
جیساکہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

2؎:
یعنی اپنا سر غیر اللہ کے سامنے مت جھکانا،
نہ ریاکاری کے ساتھ عبادت کرنا،
اور نہ ہی اپنی زبان،
آنکھ اور کان کا غلط استعمال کرنا۔

3؎:
یعنی حرام کمائی سے اپنا پیٹ مت بھرو،
اسی طرح شرمگاہ،
ہاتھ،
پاؤں اور دل کی اس طرح حفاظت کرو،
کہ ان سے غلط کام نہ ہونے پائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2458]