یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2459
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، يَقُولُ: حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا قَبْلَ أَنْ يُحَاسَبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَتَزَيَّنُوا لِلْعَرْضِ الْأَكْبَرِ وَإِنَّمَا يَخِفُّ الْحِسَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنْ حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا، وَيُرْوَى عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: لَا يَكُونُ الْعَبْدُ تَقِيًّا حَتَّى يُحَاسِبَ نَفْسَهُ كَمَا يُحَاسِبُ شَرِيكَهُ مِنْ أَيْنَ مَطْعَمُهُ وَمَلْبَسُهُ.
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اور «من دان نفسه» کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے،
۳- عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور «عرض الأكبر» (آخرت کی پیشی) کے لیے تدبیر کرو، اور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہو گا،
۴- میمون بن مہران کہتے ہیں: بندہ متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتا ہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2459]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اور «من دان نفسه» کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے،
۳- عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور «عرض الأكبر» (آخرت کی پیشی) کے لیے تدبیر کرو، اور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہو گا،
۴- میمون بن مہران کہتے ہیں: بندہ متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتا ہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 31 (4260) (تحفة الأشراف: 4820) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (4260) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (930) ، المشكاة (5289) ، ضعيف الجامع الصغير (4305) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2459) إسناده ضعيف / جه 4260
أبو بكر بن أبى مريم: ضعيف (تقدم: 1012)
أبو بكر بن أبى مريم: ضعيف (تقدم: 1012)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2459
| الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت العاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله |
سنن ابن ماجه |
4260
| الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت العاجز من أتبع نفسه هواها ثم تمنى على الله |
المعجم الصغير للطبراني |
1035
| الكيس من دان نفسه وعمل بعد الموت العاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2459 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2459
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2459]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2459 in Urdu
ضمرة بن حبيب الزبيدي ← شداد بن أوس الأنصاري