🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء في آخر سورة البقرة
باب: سورۃ البقرہ کی آخری آیات کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2881
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہو گئیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 10 (5009)، صحیح مسلم/المسافرین 43 (807)، سنن ابی داود/ الصلاة 326 (1397)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 183 (1369) (تحفة الأشراف: 9999)، و مسند احمد (4/118)، سنن الدارمی/الصلاة 170 (1528) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ دونوں آیتیں ہر برائی اور شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کریں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1263)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعودصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← أبو مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4008
الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأهما في ليلة كفتاه
صحيح البخاري
5040
الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأ بهما في ليلة كفتاه
صحيح مسلم
1880
من قرأ هاتين الآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
صحيح مسلم
1878
الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأهما في ليلة كفتاه
جامع الترمذي
2881
من قرأ الآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
سنن أبي داود
1397
من قرأ الآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
سنن ابن ماجه
1369
من قرأ الآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
سنن ابن ماجه
1368
الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأهما في ليلة كفتاه
مسندالحميدي
457
من قرأ بالآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2881 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2881
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ دونوں آیتیں ہر برائی اور شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کریں گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2881]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1397
قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1397]
1397. اردو حاشیہ: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کا کافی ہونا یا کفایت کرنا کئی معانی کا محتمل ہے۔ مثلا قیام الیل سے کافی ہیں۔ یا شیطان اور دیگر آفات وغیرہ سے تحفظ کا باعث ہیں۔ یہ سبھی مراد ہیں۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کم سے کم یہ قراءت لمبی قراءت سے کفایت کرتی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1397]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1368
تہجد (قیام اللیل) کے بدلے کس عمل کے کافی ہونے کی امید کی جاتی ہے؟
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ البقرہ کی آخر کی دو آیتیں جو رات میں پڑھے گا، تو وہ دونوں آیتیں اس کو کافی ہوں گی ۱؎۔ حفص نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی وہ طواف کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1368]
اردو حاشہ:
فائدہ:
کافی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس کو تہجد کا وقت نہ ملا۔
وہ کم از کم یہ دو آیتیں ہی تلاوت کرلے۔
تو اسے اللہ کی وہ رحمت حاصل ہوجائےگی۔
جوتہجد پڑھنے والے کوحاصل ہوتی ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ پریشانیوں اور آفات سے بچاؤ کےلئے کافی ہوں گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1368]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1878
عبدالرحمان بن یزید بیان کرتے ہیں، بیت اللہ کے پاس میری ملاقات حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا: مجھے آپ کی بیان کردہ، سورہ بقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں حدیث پہنچی ہے تو انھوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں، جو شخص ان کو رات کو پڑھ لے گا، وہ اس کے لئے کافی ہوں گی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1878]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات سے مراد ﴿آمَنَ الرَّسُولُ﴾ سے لے کر خاتم سورۃ مراد ہے اور(کَفَتَاہُ)
کا مقصد ہے وہ رات کے قیام سے کفایت کریں گی۔
شیطان کے شرو فساد سے اس کی حفاظت کریں گی،
اور ہر قسم کی آفتوں اور مصائب سے تحفظ فراہم کریں گی،
ان کا اجرو ثواب انسان کے لیے کافی ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1878]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5040
5040. سیدنا ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5040]
حدیث حاشیہ:
حدیث ہذا میں سورۃ بقرہ نام مذکور ہے یہی باب اور حدیث میں وجہ مطابقت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5040]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4008
4008. حضرت ابو مسعود بدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات ہیں، جو کوئی انہیں رات کو پڑھے وہ اس کے لیے کافی ہیں۔ (راوی حدیث) حضرت عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابومسعود ؓ سے ملاقات کی جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ان سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان فرمائی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4008]
حدیث حاشیہ:

ان احادیث کے بیان سے امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمروانصاری ؓ بدری صحابی ہیں لیکن غزوہ بدر میں شرکت کرنے کے متعلق کچھ اختلاف ہے۔
اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ بدر میں مقیم ہونے کی بنا پر بدری ہیں بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے لیکن صحیح موقف یہی ہے کہ وہ بدر کہ جنگ میں شریک ہونے کی بنا پربدری ہیں، چنانچہ امام بخاری ؒ کی پیش کردہ دوسری حدیث میں صراحت ہے کہ انھوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی نیز اثبات کی نفی پر ترجیح ہوتی ہے۔
اس قاعدے کی بنا پر ان کی غزوہ بدر میں شرکت یقینی ہے۔

واضح رہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری ؓ کی دختر ام بشر پہلے سعید بن زید کے نکاح میں تھیں بعد میں انھوں نے حضرت حسن بن علی ؓ سے نکاح کر لیا تو ان کے بطن سے حضرت زید بن حسن ؓ پیدا ہوئے۔
اس اعتبار سے ابو مسعود انصاری ؓ حضرت زید بن حسن کے نانا ہیں، جیسا کہ روایت میں صراحت ہے۔

رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے سے اس رات کے مصائب سے پناہ مل جاتی ہے یا دخول جنت کے لیے وہ کافی ہو جاتی ہیں۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4008]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5040
5040. سیدنا ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5040]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سورۃ البقرہ کہا ہے، لہذا اس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔

حجاج بن یوسف کا بھی یہی موقف تھا کہ سورۃ البقرہ وغیرہ نہیں کہنا چاہیے، چنانچہ اس نے منیٰ میں ایک مرتبہ خطبہ دیا تو دوران خطبہ میں یہی انداز اختیار کیا۔
حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے جب سنا تو انھوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کر کے اس اسلوب کی تردید کی۔
اس میں "سورہ بقرہ" ہی استعمال کیا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1750)
اس امر کی متعدد علماء نے صراحت کی ہے کہ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کہنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ بعض اہل اسلام سے اس کی کراہت منقول ہے۔
(فتح الباري: 110/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5040]