یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: يَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَتَرَكَهُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے (کسی چیز سے) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے“، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں (ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی،
۳- یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2911]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں (ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی،
۳- یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4863)، وانظر مسند احمد (5/268) (ضعیف) (سند میں بکر بن خنیس سے بہت ہی غلطیاں ہوئی ہیں، اور لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (1332) ، الضعيفة (1957) // ضعيف الجامع الصغير (4993) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2911) إسناده ضعيف
ليث : ضعيف (تقدم:218)
ليث : ضعيف (تقدم:218)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2911
| ما أذن الله لعبد في شيء أفضل من ركعتين يصليهما البر ليذر على رأس العبد ما دام في صلاته ما تقرب العباد إلى الله بمثل ما خرج منه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2911 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2911
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں بکر بن خنیس سے بہت ہی غلطیاں ہوئی ہیں،
اور لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں بکر بن خنیس سے بہت ہی غلطیاں ہوئی ہیں،
اور لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2911]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2911 in Urdu
زيد بن أرطاة الفزاري ← صدي بن عجلان الباهلي