🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب ومن سورة الممتحنة
باب: سورۃ الممتحنہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُ إِلَّا بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ: إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ " قَالَ مَعْمَرٌ، فَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا امتحان نہیں لیا کرتے تھے مگر اس آیت سے جس میں اللہ نے «إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» اے مومنوا! جب تمہارے پاس مومن عورتیں (مکہ سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو، اللہ تو ان کے ایمان کو جانتا ہی ہے، اگر تم یہ جان لو کہ یہ واقعی مومن عورتیں ہیں تو ان کو ان کے کافر شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ، نہ تو وہ کافروں کے لیے حلال ہیں نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں (الممتحنۃ: ۱۰)، کہا ہے ۱؎۔ معمر کہتے ہیں: ابن طاؤس نے مجھے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ ان کے باپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے اس عورت کے سوا جس کے آپ مالک ہوتے کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر: صحیح البخاری/الأحکام 49 (7214) (تحفة الأشراف: 16640) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور امتحان لینے کا مطلب یہ ہے کہ کافر ہوں اور اپنے شوہروں سے ناراض ہو کر، یا کسی مسلمان کے عشق میں گرفتار ہو کر آئی ہوں، اور جب تحقیق ہو جائے تب بھی صلح حدیبیہ کی شق کے مطابق ان عورتوں کو واپس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مسلمان عورت کافر مرد کے لیے حرام ہے، (مردوں کو بھلے واپس کیا جائے گا)
۲؎: اس سے اشارہ اس بات کا ہے کہ آپ عورتوں سے بیعت زبانی لیتے تھے، اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر رکھ کر بیعت لیا وہ اکثر مرسل روایات ہیں، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے اپنے اور ان کے ہاتھوں کے درمیان کوئی حائل (موٹا کپڑا وغیرہ) رکھا ہو، جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے «لیس فی نسخۃالالبانی، وہوضعیف لأجل أبی نصرالاسدی فہومجہول» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمنثقة إمام فاضل
👤←👥عبد الله بن طاوس اليماني، أبو محمد
Newعبد الله بن طاوس اليماني ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عبد الله بن طاوس اليماني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4891
يمتحن من هاجر إليه من المؤمنات بهذه الآية بقول الله يأيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك إلى قوله غفور رحيم
صحيح البخاري
4182
يمتحن من هاجر من المؤمنات بهذه الآية يأيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك
جامع الترمذي
3306
ما كان رسول الله يمتحن إلا بالآية التي قال الله إذا جاءك المؤمنات يبايعنك
المعجم الصغير للطبراني
582
يمتحن من هاجر إليه من المؤمنات بهذه الآية يأيها النبي إذا جاءك المؤمنات
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3306 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3306
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے مومنوا! جب تمہارے پاس مومن عورتیں (مکہ سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو،
اللہ تو ان کے ایمان کو جانتا ہی ہے،
اگر تم یہ جان لو کہ یہ واقعی مومن عورتیں ہیں تو ان کو ان کے کافر شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ،
نہ تو وہ کافروں کے لیے حلال ہیں نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں (الممتحنة: 10) اورامتحان لینے کا مطلب یہ ہے کہ کافر ہوں اور اپنے شوہروں سے ناراض ہو کر،
یا کسی مسلمان کے عشق میں گرفتار ہو کر آئی ہوں،
اور جب تحقیق ہو جائے تب بھی صلح حدیبیہ کی شق کے مطابق ان عورتوں کو واپس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مسلمان عورت کافرمرد کے لیے حرام ہے،
(مردوں کو بھلے واپس کیا جائیگا)
2؎:
اس سے اشارہ اس بات کا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے بیعت زبانی لیتے تھے،
اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں پررکھ کر بیعت لی وه اکثرمرسل روایات ہیں،
نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور ان کے ہاتھوں کے درمیان کوئی حائل (موٹا کپڑا وغیرہ) رکھا ہو،
جیساکہ بعض روایات میں آتا ہے (لَیْسَ فِي نُسْخَةِ الألْبَانِي،
وهُوَضَعِیْفٌ لِأَجْلِ أَبِي نَصْرِالأَسدِي فَهُوَمَجْهُوْلٌ)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3306]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4891
4891. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول کے بعد ان مومن خواتین کا امتحان لیا کرتے تھے جو ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مدینہ طیبہ) آتی تھیں۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: اے نبی! جب آپ کے پاس مومن خواتین بیعت کرنے کے لیے آئیں۔۔ غفور رحیم تک۔ حضرت عروہ نے کہا: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: جو مسلمان عورت ان شرائط کا اقرار کر لیتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبانی طور پر اس سے فرماتے: میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی ہے۔ اللہ کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے بیعت لیتے وقت کسی عورت کا ہاتھ چھوا ہو۔ آپ ان سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے: تم ان مذکورہ باتوں پر قائم رہنا۔ یونس، معمر اور عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کرنے میں ان کے بھتیجے کی متابعت کی ہے۔ اسحاق بن راشد نے کہا: وہ زہری سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے عروہ اور عَمرہ دونوں سے روایت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4891]
حدیث حاشیہ:
اب ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں جو ہے آپ نے گھر کے باہر سے اپنا ہاتھ دراز کیا اور ہم نے گھر کے اندر سے، اس سے بھی مصافحہ نہیں نکلتا۔
اسی طرح ایک روایت میں ہے ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس سے بھی مصافحہ ثابت نہیں ہوتا اور ابوداؤد نے مراسیل میں شعبی سے نکالا کہ آپ نے ایک چادر ہاتھ پر رکھ لی اور فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ان حدیثوں کو دیکھ کر بھی جو مرشد عورتوں کو مرید کرتے وقت ان سے ہاتھ ملائے وہ بدعتی اور مخالف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اسی طرح جو مرشد غیرمحرم عورتوں مریدنیوں کو بے ستر اپنے پاس آنے دے۔
مثلاً سر اور سینہ کھولے ہوئے تو وہ مرشد نہیں ہے بلکہ مضل یعنی گمراہ کرنے والا شیطان کا بھائی ہے۔
(وحیدی)
جو لوگ پیشہ ور پیر مرشد بنے ہوئے ہیں ان کی اکثریت کا یہی حال ہے وہ مرید ہونے والی مستورات احکام شرعیہ پردہ حجاب وغیرہ سے اپنے لئے مستثنیٰ سمجھتے ہیں اور ان سے بغیر حجاب کے خلط ملط رکھنے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے ایسے پیروں مرشدوں ہی کے متعلق مولانا روم نے فرمایا ہے۔
کارِ شیطان می کند نامش ولی گر ولی ایں است لعنت بر ولی یعنی کتنے لوگ شیطانی کام کرنے والے ولی کہلاتے ہیں اگر ایسے ہی لوگ ولی ہیں تو ایسے ولیوں پر خدا کی لعنت نازل ہو۔
آمین
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4891]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4182
4182. ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر ؓ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: بےشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درج ذیل آیت کے مطابق مہاجر خواتین کا امتحان لیتے تھے: اے نبی! جب تمہارے پاس اہل ایمان خواتین بیعت کے لیے آئیں۔ اور ان کے چچا (محمد بن مسلم زہری) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں وہ حدیث بھی معلوم ہے جب اللہ تعالٰی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے چلی آئی ہیں ان کے مشرک شوہروں کو وہ سب کچھ واپس کر دیا جائے جو انہوں نے اپنی بیویوں پر خرچ کیا ہے۔ اور ہمیں ابوبصیر ؓ کے واقعے کی خبر بھی پہنچی ہے، پھر انہوں نے تفصیل سے اس کا ذکر کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4182]
حدیث حاشیہ:
چونکہ معاہدہ کی شرط میں عورتوں کا کوئی ذکر نہ تھا اس لیے جب عورتوں کا مسئلہ سامنے آیا تو خود قرآن مجید میں حکم نازل ہوا کہ عورتوں کو مشرکین کے حوالے نہ کیا جائے کہ اس سے معاہدہ کی خلاف ورزی لازم نہیں آتی بشرطیکہ تم کو یقین ہو جائے کہ وہ عورتیں محض ایمان و اسلام کی خاطر پورے ایمان کے ساتھ گھر چھوڑ کر آئی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4182]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4891
4891. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول کے بعد ان مومن خواتین کا امتحان لیا کرتے تھے جو ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مدینہ طیبہ) آتی تھیں۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: اے نبی! جب آپ کے پاس مومن خواتین بیعت کرنے کے لیے آئیں۔۔ غفور رحیم تک۔ حضرت عروہ نے کہا: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: جو مسلمان عورت ان شرائط کا اقرار کر لیتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبانی طور پر اس سے فرماتے: میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی ہے۔ اللہ کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے بیعت لیتے وقت کسی عورت کا ہاتھ چھوا ہو۔ آپ ان سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے: تم ان مذکورہ باتوں پر قائم رہنا۔ یونس، معمر اور عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کرنے میں ان کے بھتیجے کی متابعت کی ہے۔ اسحاق بن راشد نے کہا: وہ زہری سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے عروہ اور عَمرہ دونوں سے روایت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4891]
حدیث حاشیہ:
جب صلح حدیبیہ ہوئی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو مسلمان مکے سے مدینے آئے گا۔
مسلمان اسے کافروں کو لوٹانے کے پابند ہوں گے اور اس شرط کے تحت مسلمانوں نے کافروں کے مطالبے پر کچھ مسلمان لوٹا بھی دیے اسی دوران میں جب اُم کلثوم بنت عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہجرت کر کے مدینے آگئیں تو کافروں نے ان کی واپسی کا مطالبہ کر دیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کے اس مطالبےکو درست تسلیم نہ کیا کیونکہ شرط کے الفاظ کی روسے عورتیں اس شرط سےمستثنیٰ تھیں لیکن مسلمانوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ہجرت کرنے آنے والی عورتوں سے پوچھ گچھ کریں کہ آیا وہ واقعی مسلمان ہیں؟ محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں؟ کوئی دنیوی یا نفسانی خواہش تو اس ہجرت کا باعث نہیں تھی؟ کہیں خاوندوں سے لڑ کر دیا گھریلو جھگڑوں سے بے زار ہو کر یا محض سیر و سیاحت یا کوئی دوسری غرض تو ہجرت کا باعث نہیں تھی۔
جب عورتیں پوچھ گچھ میں کامیاب ہو جائیں تو انھیں کس صورت میں بھی کافروں کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا۔
چنانچہ حدیث میں صراحت ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مہاجر عورتوں سے پوچھ گچھ کرتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4891]